ترکی سے تعلقات کی خرابی امریکہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گی، ترک وزیر اعظم

شاخِ زیتون آپریشن کی مدد سے دہشت  گردوں   کو بے بس کرتے ہوئے علاقے  میں امن و امان کا ماحول قائم کیا جائیگا

ترکی سے تعلقات کی خرابی امریکہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گی،  ترک وزیر اعظم

وزیر اعظم بن علی یلدرم کا کہنا ہے کہ ترکی کے ساتھ تعلقات  میں بگاڑ سے متحدہ امریکہ کو   بھی نقصان پہنچے گا۔

وزیر اعظم  نے اپنے آبائی وطن  ایرزنجان  میں بی بی سی کو ایجنڈے کے حوالے سے اپنے جائزے پیش کیے۔

ترک مسلح افواج  کے  عفرین میں  جاری شاخ  زیتون  آپریشن   کہ جس کا آغاز 20 جنوری سے ہوا تھا کا ذکر کرنے والے وزیر اعظم نے بتایا کہ  اس کاروائی کا مقصد  عفرین کے عوام کو دہشت گردوں کے مظالم سے نجات دلانا اور  ترکی پر کیے جانے والے  راکٹ حملوں  کا سد باب کرنا ہے۔

اس کاروائی کے آغاز سے ابتک  عفرین سے ترک  سر زمین پر 107 راکٹ داغے جانے  کی وضاحت کرنے والے جناب یلدرم نے بتایا کہ  دہشت گرد  خطے  کے کردوں، ترکمانوں اور عرب باشندوں  پر ظلم کے پہاڑڈھائے  جا رہے  ہیں ، اس آپریشن کی مدد سے دہشت  گردوں   کو بے بس کرتے ہوئے علاقے  میں امن و امان کا ماحول قائم کیا جائیگا۔

انہوں نے بتایا کہ شہریوں کے جانی تحفظ کاخصوصی طور پر خیال  رکھا جا رہا ہے، اس ضمن میں آوازیں بلند کرنے والوں پر رد عمل کا مظاہرہ کرتے  ہوئے جناب   یلدرم نے کہا کہ سویلین کی ہلاکتوں کے  بارے میں بات کرنےوالا سب سے آخری ملک فرانس ہے۔  اس نے افریقہ   میں لاکھوں انسانوں کا خون بہایا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ" ترکی کے ساتھ تعلقات کے بگاڑ سے امریکہ کو زیادہ نقصان پہنچے گا، لگتا ہے کہ   امریکہ  اس  علاقے  کے حوالے سے کوئی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ یہ  کیسے ایسا کر سکتا ہے؟ تم   نیٹو کے  ایک اتحادی  کی جانب  کہنی موڑ رہے ہو اور اس میثاق  کی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کر رہے۔  تم  ، نیٹو کے شراکت دار  سے دشمنی مول لینے والوں، خطے کا بٹوارہ کرنے کے درپے   دہشت گردوں  سے قریبی تعلقات  قا ئم کر رہے ہو۔ "

.



متعللقہ خبریں