انقرہ میں یومِ یکجہتی کشمیر کی تقریب

اس سیمنار اور  پینل  میں بڑی تعداد  میں ترک باشندوں کی شرکت نےپاک ترک دوستی کا  ثبوت فراہم کردیا۔ تقریب کی تفصیلات کے لیے کلک کیجیے

انقرہ میں یومِ یکجہتی کشمیر کی تقریب
انقرہ میں یومِ یکجہتی کشمیر کی تقریب
انقرہ میں یومِ یکجہتی کشمیر کی تقریب

انقرہ میں یومِ یکجہتی کشمیر کی تقریب 

کل  انقرہ میں  سفارتخانہ  پاکستان اور تھنک ٹینک "ایصام" کے تعاون سے  " یوم یکجہتی کشمیر"  کے زیر عنوان ایک سیمنار اور پینل کا اہتمام کیا گیا ۔   اس سیمنار اور  پینل  میں بڑی تعداد  میں ترک باشندوں کی شرکت نےپاک ترک دوستی کا  ثبوت فراہم کردیا ۔   اس تقریب میں "ایصام" تھنک ٹینک  کے صدر رجائی کُتان،  محروم  نجم الدین  ایربکان  کی جماعت سعادت پارٹی کے چئیرمین  تے میل  قارا مولا اولو ،   نائب وزیر خارجہ  احمد یلدیز، ترک پارلیمنٹ میں پاک ترک پارلیمانی دوستانہ گروپ کے چئیرمین  محمد بالتا  ، پاکستان  ترک کلچرل ایسوسی ایشن  کے صدر برہان قایا ترک سابق ایم این اے پروفیسر ڈاکٹر اویا آق گیونینچ،  پروفیسر  ڈاکٹر سنجار  ایمیر، پروفیسر ڈاکٹر    ایم  سیف الدین، ایرول  اور  آئدن  گیوین  نے سمینار اور پینل میں شرکا کی حثیت سے  شرکت  کی۔

 تقریب کا آغاز  تلاوت کلامِ پاک  سے ہوا ۔  اس موقع پر  افتتاحی خطاب کرتے ہوئے   "ایصام" تھنک ٹینک  کے صدر رجائی کُتان نے کہا کہ  عالم ِ اسلام  کو مشکلات سے دوچار کرنے اور  اپنے آپ کو مہذب کہلوانے والے مغر بی ممالک ہی ہیں  جنہوں نے گزشتہ دو سو سالوں اپنے مہذب پن کی آڑ میں  اسلامی ممالک میں   انتشار پھیلا رکھا ہے ۔انگریزوں نے  جان بوجھ کر کشمیر  کے مسئلے کو حل کیے بغیر چھوڑ دیا تاکہ  علاقے میں کبھی بھی امن قائم نہ ہوسکے۔ مرحوم  نجم الدین ایربکان نے  ہمیشہ ہی   مسئلہ کشمیر کو ترکی کے ایجنڈے میں پہلے نمبر پر رکھا  اور  کشمیریوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کرتے رہے۔

 اس موقع پر سفیرِ پاکستان   محمد سائرس سجاد قاضی نے سب سے پہلے تھنک ٹینک "ایصام"  اور شرکاء   کا  شکریہ ادا کیا  اور کہا کہ  " آپ کی موجودگی  مقبوضہ جموں کشمیر  میں جبر اور ظلم و ستم کے تحت زندگی بسر کرنے والے کشمیریوں  کے لیے طاقت اور  حوصلہ افزائی کا وسیلہ  ہے۔ انہوں نے کہا کہ  3 نومبر 1947 ء کو آل انڈیا ریڈیو سے خطاب کرتے ہوئے  ہندوستان کے پہلے  وزیراعظم  پنڈت جواہر لا ل  نہرو  نے کشمیری عوام سے  وعدہ  کرتے ہوئے کہا  تھا کہ " کشمیر  کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی مجاز  صرف کشمیری عوام ہی ہیں ۔ ہم نے  یہ وعدہ صرف  کشمیری عوام کے سامنے  ہی نہیں کیا ہے بلکہ   پوری دنیا کے سامنے کیا ہے  اور اپنے اس فیصلے پر قائم ہیں" ۔ سفیر پاکستان نے کہا کہ ہندوستان نے آج تک اپنے اس وعدے کو  پورا نہیں کیا ہے  اور کشمیری عوام پر طاقت کے بل بوتے پر اپنی حاکمیت قائم کررکھی ہے۔

انہوں نے    تمام بین الا اقوامی پلیٹ فارم پر پاکستان کے موقف کی کھل کر حمایت کرنے پر  حکومتِ ترک اور ترک حکام کا شکریہ ادا کیا ۔ اس موقع پر ترکی کے نائب وزیر خارجہ  احمد یلدیز نے  کہا کہ صدر ایردوان کشمیریوں پر ہونے والے ظلم و ستم سے پوری طرح آگاہ ہیں  اور وہ ہمیشہ عالمی برادری سے اس مسَلے کو حل کرنے  پر زور دیتے چلے آرہے ہیں اور وہ جلد از جلد اس مسئلے کو حل کرنے کے خواہاں ہیں۔

اس موقع پر   ترک پارلیمنٹ میں پاک ترک پارلیمانی دوستانہ گروپ کے چئیرمین  محمد بالتا   نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح  پاکستان کے عوام نے ترکی کی جنگِ نجات اور  قبرص کی جنگ کے موقع پر  ترک عوام  کی حمایت اور پشت پناہی کی  ہم اس کوکبھی  بھی فراموش نہیں کرسکتے ہیں  اور یہ ہمارا بھی فرض ہے کہ  ہم  مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی کھل کر حمایت کریں۔  

اس موقع پرسعادت  پارٹی کے چئیرمین     تے میل  قارا مولا اولو  نے کہا کہ ترکی اور پاکستان کے درمیان قابلِ رشک  تعلقات قائم ہیں اور دونوں ممالک ایک دوسرے  کی ہمیشہ ہی بین الاقوامی پلیت فارم  پر  مکمل حمایت کرتے ہیں۔سعادت پارٹی مسئلہ کشمیر  کو  اسلامی تعاون تنظیم  کے ذریعے حل کروانے پر یقین رکھتی ہے کیونکہ اقوام متحدہ  اور مغربی ممالک  اسلامی ممالک کے مسائل  کو حل کرنے میں ذرہ بھر  بھی کوئی دلچسپی نہیں لیتے ہیں۔

بعد میں کشمیر کے موضوع پر اتھارٹی سمجھی جانے والی  پروفیسر ڈاکٹر اویا آق گونینچ کی قیادت میں منعقد  ہ   میں  پینل  سے خطاب کرتے ہوئے  کشمیر کے مسائلے اور اس کے حل سے متعلق  اپنے اپنے  خیالات کا اظہار کیا۔ بعد میں سفیر پاکستان نے تمام شرکاء  میں     شیلڈ پیش کی اور یہ پروگرام  فیملی تصاویر اتروانے کے بعد اپنے اختتام کو پہنچا ۔  



متعللقہ خبریں