حالات کے آئینے میں ۔ 42

حالات کے آئینے میں ۔ 42

حالات کے آئینے میں ۔ 42

پروگرام " حالات کے آئینے میں" کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ شام میں  گذشتہ دنوں میں متعدد اہم پیش رفتیں ہوئیں۔ ترکی کے پُر عزم  طرزِ عمل نے  روس اور ایران کے تعاون سے اسد انتظامیہ کی طرف سے ادلب پر ممکنہ  حملے کا سدباب کر دیا اور سوچی سربراہی اجلاس میں ترکی اور روس کے درمیان سمجھوتہ طے پا گیا۔ سوچی سمجھوتے نے 3 ملین سے زائد آبادی کے حامل  ادلب کو کسی ممکنہ حملے سے اور انسانی بحران سے بچا لیا  اور اس کے ساتھ ساتھ ترک اور روسی فریق پر بعض ذمہ داریاں بھی عائد کیں۔ سمجھوتے کی رُو سے علاقے میں 15 سے 20 کلو میٹر وسعت کا حامل اسلحے سے پاک علاقہ تشکیل دیا جائے گا۔M4 اور M5 موٹر ویز کو تجارت کے لئے کھول دیا جائے گا۔ ترک اور روسی فوجی، فرنٹ لائن کے دونوں طرف پیٹرولنگ کریں گے اور ترکی اور روس کے ڈورن طیارے فضاء سے ادلب کی  مانیٹرنگ  کے فرائض ادا کریں گے۔ دوسری اہم پیش رفت اسرائیل کے فضائی حملوں کے دوران  اسد انتظامیہ کے فضائی ڈیفنس سسٹموں کی طرف سے غلطی سے  روس کے IL-20 طیارے کا گرایا جانا تھا۔ روس نے اسرائیل کو طیارہ گرانے کا ذمہ دار ٹھہرایا جبکہ اسرائیل نے اسد انتظامیہ کی نااہلی کو اس کا ذمہ دار قرار دیا۔ اس واقعے پر ردعمل کے طور پر روس نے اسد انتظامیہ کو ایس 300 ائیر ڈیفنس سسٹم فراہم کر دیا۔

سیاست، اقتصادیات اور معاشرتی تحقیقات کے وقف SETAکے محقق اور مصنف جان آجُون کا موضوع سے متعلق تجزئیہ آپ کے پیش خدمت ہے۔

ادلب میں ترکی اور روس کے درمیان طے پانے والے سوچی سمجھوتے  کے اطلاق کے حوالے سے دونوں ممالک پر اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔  سمجھوتے کے اطلاق میں ترکی کے حوالے سے   بعض خطرات اور مشکلات پائی جاتی ہیں۔ دوسری طرف سوچی سمجھوتے کے اطلاق کے حوالے سے ترکی کے ہاتھ میں بہت سے   ذرائع بھی موجود ہیں۔ ترکی کے لئے سب سے اہم خطرہ اور مشکل ادلب کی متعصب تنظیمیں ہیں۔  سوچی سمجھوتے کی رُو سے اسلحے سے پاک کئے جانے والے  علاقے سے ہیت التحریر الشام جیسی متعصب تنظیموں کی  موجودگی کو ختم کیا جائے گا۔ اسے یقینی بنانے کے لئے ترکی ایک طرف توضروری  کاروائیاں کر رہا ہے  تو دوسری طرف  اپنے حامی شامی مخالفین کی مدد سے ضروری دباو  ڈالنے کی بھی حالت میں ہے۔

سوچی سمجھوتے کی رُو سے شامی مخالفین کی طرف سے بھاری اسلحے کو  اسلحے سے پاک علاقے  سے ادلب کے اندرونی حصوں کی طرف ہٹایا جانا ضروری تھا۔ نتیجتاً ترک حکام کی کوششوں سے شامی مخالفین اپنے ٹینکوں، راکٹ لانچروں ، مارٹر گنوں  اور توپوں کو فرنٹ لائن سے ہٹا کر ادلب کے اندرونی حصے کی طرف  لے گئے ہیں۔ لیکن انتظامیہ کی طرف سے کسی ممکنہ حملے کے مقابل دفاعی لائنوں پر متعین فوجیوں  کی موجودگی برقرار ہے۔ گائیڈڈ اینٹی ٹینک میزائل ، ہلکے اور درمیانی مسافت کے اسلحے کے ساتھ ساتھ 23 ایم ایم اور 57 ایم ایم  کا اسلحہ بھی اسلحے سے پاک علاقے میں موجود ہے۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو اصل میں اسلحے سے پاک علاقے کو جارحانہ بھاری اسلحے سے پاک علاقہ کہنا زیادہ درست ہو گا۔

روس اور ترکی کے درمیان طے پانے والے سوچی سمجھوتے کے بعد  علاقے پر فضائی حملے رُک گئے ہیں اور روز مرّہ زندگی دوبارہ سے زندہ ہو گئی ہے۔ خاص طور پر شمالی حاما کے دیہی علاقوں سے ہجرت کرنے والی 60 ہزار کے لگ بھگ آبادی کے دوبارہ اپنے گھروں کو لوٹنا شروع کرنے کی مقامی ذرائع ابلاغ سے بھی  تصدیق ہوئی ہے۔ ترکی کی بڑے پیمانے کی ڈپلومیٹک کامیابی سے 3 ملین سے زائد انسانوں  کی جان و مال کو تحفظ فراہم ہوا ہے یعنی انسانیت کے حوالے سے ترکی  نے ایک بڑی فتح حاصل کی ہے۔

دوسرے موضوع کی طرف دیکھا جائے تو  روس کا طیارہ گرنے کے بعد پہلے تو روسی حکام نے اسرائیل کو قصوروار  ٹھہرایا لیکن بعد ازاں ماسکو کی طرف سے زیادہ معتدل بیانات جاری کئے گئے۔ اگرچہ روس اور اسرائیل کے درمیان تناو بحران میں تبدیل نہیں ہوا لیکن اس کے باوجود روس نے اسد انتظامیہ کو ایس 300 ائیر ڈیفنس سسٹم فراہم کر کے شام کی فضائی حدود  میں اسرائیل  کے عمل دخل کو محدود کر دیا ہے۔ اسرائیل ایک طویل عرصے سے شام کی فضائی حدود کو استعمال کر کے شام میں ایران اور حزب اللہ کی موجودگی کے خلاف فضائی حملے کر رہا تھا۔ روسی ائیر ڈیفنس سسٹموں کا کبھی بھی اسرائیل طیاروں کے خلاف فعال نہ ہونا اور انتظامیہ کے ائیر ڈیفنس سسٹموں کا ان کے مقابل ناکافی رہنا اسرائیل کو آسانی سے آپریشن کرنے کی سہولت فراہم کر رہا تھا۔

روس کے اسد انتظامیہ کو ایس300 ائیر ڈیفنس سسٹم فراہم کرناے کو اوّلین طور پر اگرچہ اسرائیل کی فضائی حملے کرنے کی صلاحیت کے حوالے سے دیکھا جا رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ    ایس 300 ائیر ڈیفنس سسٹموں کے اس کے علاوہ دیگر اثرات بھی ہوں گے۔ مستقبل  کے حالات  کے مطابق کسی ممکنہ صورتحال میں اسد انتظامیہ اپنے ایس 300 ائیر ڈیفنس سسٹموں کی مدد سے امریکہ کی زیر قیادت بین الاقوامی کولیشن کے مقابل بھی ا ور ترک فضائیہ کے مقابل بھی پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہو گی۔ حاصل کلام یہ کہ اس حوالے سے اسد انتظامیہ کی صلاحیت میں یہ اضافہ صرف اسرائیل کو ہی نہیں شامی فضائی حدود  کو استعمال کرنے والے تمام کرداروں  کو متاثر کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔

 



متعللقہ خبریں