ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 41

جی ۔ 20 کے ڈھانچے اور اس میں ترکی کے کردار کا جائزہ ڈاکٹر جمیل دوآچ اپیک کے قلم سے

ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 41

ترکی کے اقتصادی رسک اور امکانات کے  دور سے گزرنے والے ان ایام میں ترکی کے  لیے جی۔20 ایک اہم نقطہ  نظر پیش  کر رہا ہے ۔ جی۔20 کے ترک معیشت اور ترک خارجہ پالیسی پر اثرات کا جائزہ   قاراتیکن یونیورسٹی کے شعبہ بین  الاقوامی امور کے لیکچرار ڈاکٹر جمیل دوآچ اپیک کے قلم سے ۔۔۔

جمہوریہ ترکی کے علاقائی و عالمی سطح پر سنجیدہ سطح کے اقتصادی  خطرات و مواقع کے آمنے سامنے ہونے والے  ان  ایام میں  ترکی کا جی۔20 رکن ممالک  کی جانب سے نقطہ نظر اہمیت کا حامل  ہے۔ اقتصادیات کے مستقبل کے حوالے سے فیصلے کیے جانے والے ان ایام میں ترکی  ڈپلومیسی  کے مختلف محاذوں میں سے ایک کو عملی جامہ پہنا رہا ہے۔ یاد رہے کہ ماضی قریب میں جی۔20 کےو زراء  خزانہ و اسٹیٹ بینکوں کے گورنرز کا اجلاس ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونوس ایریز میں ماہ جولائی میں سر انجام پایا تھا۔  دنیا کی بڑی ترین 20 اقتصادیات کے  ذمہ دار سرکاری حکام کا یہ  اجلاس دو روز تک جاری رہا۔

یہ اجلاس کہ جس میں ترکی کی نمائندگی وزیر خزانہ بیرات البائراک اور مرکزی بینک کے گورنر مراد چیتن قایا نے کی،  میں  جی۔20 کے دیگر رکن ممالک کے وفود کے ساتھ ساتھ  آئی ایم ایف، عالمی  بینک  اور اقتصادی و ترقیاتی تنظیم  کی طرح کے نامور بین الاقوامی  اداروں کے نمائندوں   نے بھی شرکت کی۔

عالمی معیشت کے 85 فیصد کو تشکیل دینے والے جی۔20 کے نمائندگان  کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یورپی یونین، کینیڈا اور عوامی جمہوریہ چین سمیت متعدد ممالک کو  نشانہ بنانے والی کسٹم ڈیوٹیوں اور "ادلے کا بدلہ"  کاروائیوں کے بعد پہلی  بار یکجا کرنے والے اس اجلاس کا مرکزی ایجنڈہ  طول پکڑنے والی تجارتی کشمکش تھا۔

علاوہ ازیں کرپٹو  کرنسیوں، محصولات اور مصنوعی ذہانت کے دور میں  روز گار کے مواقع کی طرح کے عنوانات  بھی مذکورہ اجلاس کے ایجنڈے کے دیگر معاملات میں شامل تھے۔

ایکو پولیٹک کے بڑی حد تک اہمیت حاصل کرنے والے ان ایام میں  آیا کہ جی۔20  کا ڈھانچہ کیا ہے اور  یہ ترکی کے لیے  کس حد اہمیت کا حامل  ہے؟

جی۔20 کا قیام ، 26 ستمبر سن 1999 میں جی۔7 ممالک کے سربراہی اجلاس میں  عمل میں آیا۔  جی۔ 20 گروپ  دنیا  کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں کے سربراہان اور یورپی یونین کے نمائندگان کو یکجا کرنے والا ایک بین الاقوامی پلیٹ فارم ہے۔ اس کے اجلاس میں عالمی مالی استحکام کے فروغ  سے متعلق مذاکرات اور امور سر انجام دیے جاتے ہیں۔ اس گروپ میں شامل ممالک دنیا کی مجموعی پیداوار کے 4 بٹا 5 اور عالمی تجارت  کے 3 بٹا 4 کی نمائندگی کرتے ہیں۔

عصرِ  حاضر میں جی۔20 نہ صرف مالی و فنانس پالیسیوں بلکہ توانائی، تجارت اور سرمایہ کاری  کو بھی اپنے اندر شامل کرنے  والے ایک وسیع پیمانے کے  پلیٹ فارم پر باہمی مشاورت کا ماحول فراہم کرتا ہے۔ اس پلیٹ فارم پر اولین طور  پر اس  کے رکن ممالک کے سربراہان  کے ماہرین  یکجا ہوتے ہیں اور اس طرح بین الامملکتی روابط سمیت تبادلہ خیال  کی فضا قائم کی جاتی ہے۔

جی۔20  ،بریٹون وڈز سسٹمز سے منسلک اداروں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے   نئے عالمی نظام میں  ناکافی ثابت ہونے کے نتیجے کے طور پر ان اداروں میں اصلاحات اور اس پر عمل پیرا ہونے کے وقت ممکنہ حد تک وسیع پیمانے  کے ایک پلیٹ فارم کو تشکیل دینے کی جستجو  کے بعد منظرِ عام پر آیا ہے۔

واضح رہے کہ جی۔20 کے پاس سرکاری طور پر فیصلے کرنےکا حق حاصل نہیں  ہے۔ ہر رکن اپنے اپنے نظریات کو زیر لب لاتا  ہے اور مصالحتی اصولوں  کے مطابق کاروائی کی جاتی ہے۔ ویسے بھی جی۔20  اپنے آپ کی "عالمی اقتصادی معاملات میں تعمیری بحث و مباحثہ   کیے جانے والے ایک سرکاری پلیٹ فارم" کے طور پر تشریح کرتا ہے۔ ہر سال  منعقدہ سربراہی اجلاس کے اختتام پر  رکن ممالک کے نظریات و خدشات کو  مدِ نظر رکھتے ہوئے ایک اعلامیہ جاری کیا جاتا ہے۔  ایک لحاظ  سے  رکن ممالک اعلامیہ میں پیش کردہ اہداف کے حصول کا عندیہ  دیتے  ہیں۔

کئی ایک بین الاقوامی تنظیموں کے بر عکس  جی۔20   کے باقاعدہ ملازمین اور نہ ہی کسی سیکریٹریٹ  جنرل کا وجود موجود ہے۔ اس کی صدارت باری باری  سنبھالی جاتی ہے۔  یعنی سابقہ ،  آئندہ کی  اور موجودہ صدارت  سربراہی اجلاس کے معاملات اور مقررین کا فیصلہ کرتی ہے۔ جی۔ 20 سے تعلق وابستہ گروپ بھی موجود ہیں، جو کہ  تھنک ٹینک تنظیموں کو یکجا کرنے والا ٹی۔20،  محنت کش گروپ  پر مشتمل ایل۔20، نوجوانوں کی تنظیموں پر مشتمل وائے۔20   ہیں۔  علاوہ ازیں ترکی نے  سن 2015  کی عبوری صدارت کے دور میں حقوق ِ نسواں  تنظیموں کو یکجا کرنے والا ڈبلیو۔20 گروپ تشکیل دیا۔

ترکی، ترقی یافتہ اور ترقی پذیر  سب سے بڑے ممالک پر محیط ہونے کی بنا پر  اپنی تمثیلی  پوزیشن کے مضبوط ہونے کی سوچ رکھتا ہے۔ جی۔20  کی عالمی اقتصادی تعاون اور رابطے  کے  اعتبار سے موزوں ترین پلیٹ فارم کے طور پر  بھی تشریح کی جاتی ہے۔  اس   بنا پر یہ جی۔20 کی تمام تر سرگرمیوں اور اجلاس کو اہمیت دیتے ہوئے  اعلی سطحی  مؤثر شراکت کے اصولوں کے مطابق حرکت کرتا ہے۔ علاوہ ازیں عالمی اقتصادی  انتظامی امور کو پختگی دلانے کے اعتبار سے بھی یہ جی۔20 کے کردار کو مزید مضبوطی دلانے کی سوچ کا بھی مالک ہے۔

ترکی ترقی یافتہ اور ترقی پذیر سب سے بڑے ممالک پر محیط اور اعلی نمائندگی کی خصوصیت کی بدولت جی۔20 عالمی اقتصادی تعاون اور روابط کے لحاظ سے موزوں ترین پلیٹ   فارم ہونے پر یقین رکھتا ہے اور  اس تنظیم میں فعال  خدمات ادا  کر رہا ہے۔

ترکی  نے یکم دسمبر سن 2014 سے  سنبھالی گئی صدارت کو 15 تا 16 نومبر 2015 کو انطالیہ میں منعقدہ سربراہان کے  اجلاس میں مکمل کیا  تھا جس کے بعد  عوامی جمہوریہ چین نے اس کی صدارت سنبھال  لی تھی۔

عالمی اقتصادی نظام کی از سر نو تشکیل کے وقت ترکی  پہلے کی طرح اب دور سے مشاہدہ کرنے والا ایک ملک   نہیں  ہے۔ جی۔20  میں  شامل ترکی اب عالمی سطح پر کہیں زیادہ  اہمیت  کا مالک ہے۔ اسوقت جاری  سلسلہ رکنیت یورپی یونین کے مذاکرات  بھی اس اعتبار سے  عملی  اہمیت   حاصل کرتے جا رہے ہیں۔ جیسا کہ یورپی نجی سیکٹر بھی اکثر و بیشتر زور دیتا  آرہا ہے کہ عالمی رقابت طاقت کے  بلند ہونے والی یورپی یونین کے لیے ترکی کی  رکنیت کا  عمل اہم ہے۔



متعللقہ خبریں