پاکستان ڈائری - 38

پاکستان ڈائری میں اس بار ملاقات کریں فخر پاکستان شہید نوابزادہ میر سراج خان رئیسانی کے ہونہار بیٹے نوبزادہ میر جمال خان رئیسانی سے

پاکستان ڈائری - 38

پاکستان ڈائری - 38

پاکستان ڈائری میں اس بار ملاقات کریں فخر پاکستان شہید نوابزادہ میر سراج خان رئیسانی کے ہونہار بیٹے نوبزادہ میر جمال خان رئیسانی سے وہ تھائی لینڈ کی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں اور ساتھ ساتھ پاکستان میں سماجی خدمات میں بھی مصروف ہیں۔

نواب زادہ میر جمال خان رئیسانی کوئٹہ میں پیدا ہوئے وہ دو بھائی ایک بہن ہیں ۔2011 میں ان کے بھائی مستونگ میں فٹبال میچ کے دوران را کے دہشتگردانہ حملے میں  شہید ہوگئے تھے۔جمال رئیسانی نے ابتدائی تعلیم کوئٹہ کے سٹی سکول سے حاصل کی ۔جمال اس وقت تھائی لینڈ کی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں ۔وہ پولیٹکل سائینس میں بیچلر ڈگری مکمل کررہے ہیں ۔ان کے مشاغل میں فٹ بال اولین ہیں وہ پروفیشنل فٹ بالر ہیں اور تھائی لیگ کا حصہ ہیں ۔اس کے علاوہ سوئمنگ اور باسکٹ بال بھی کھیلتے ہیں ۔گھڑ سواری اور گن شوٹنگ کے بھی شوقین ہیں ۔

اپنے مرحوم والد سراج رئیسانی شہید کی یادیں تازہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پیار بھی بہت کرتے تھے اور ڈسپلن کے بھی بہت پابند تھے۔عزت اور اصول پر وہ کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے تھے جمال رئیسانی کہتے ہیں کہ جب ہم بچپن میں کوئی غلطی کرتے تھے تو وہ ڈاٹنے کے بجائے ہمیں پاس بلا لیتے اور سمجھا دیتے تھے۔

وہ نواب فیملی سے ہونے کے باوجود سیلف میڈ تھے۔عام آدمی کی طرح زندگی بسر کی اور خود اپنے پیروں پر کھڑے ہوئے ۔ان کو شروع میں سیاست میں دلچسپی نہیں تھی۔انہوں نے اپنے علاقے  مستونگ  کے حالات اور عوام کی وجہ سے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا ۔جمال رئیسانی کہتے ہیں ہمارے علاقے میں صحت تعلیم کی سہولیات کا فقدان ہے۔مجھے یاد ہے جب 2011 میں میرے بھائی شہید ہوئے تو وہ زخمی تھے لیکن علاقے میں صحت کی ناکامی سہولیات کی وجہ سے وہ شہید ہوگئے۔

جمال رئیسانی نے ٹی آر ٹی اردو سروس کو بتایا کہ میرے بھائی حقمل کی شہادت ایک فٹبال ٹورنامنٹ میں ہوئی۔14 اگست کے حوالے سے ایک فٹبال میچ کا انعقاد کیا گیا۔ مستونگ میں اس وقت حالات بہت خراب تھا۔بی ایل اے اور بی ایل ایف کی طرف سے دہشتگردی کے حملے کی دھمکی تھی۔میرے والد اور بھائی نے پھر بھی چودہ اگست کے ٹورنمنٹ میں شرکت کی ۔میرے بھائی نواب زادہ میر حقمل خان رئیسانی اس حملے میں شہید ہوگئے۔ میرے بڑے بھائی پر حملہ آور ہونے والے بی ایل اے، بی ایل ایف اور راء کے دہشتگرد تھے۔

جمال کہتے ہیں کہ میرے والد حکومت میں نہیں تھے لیکن انہوں نے سوشل ورک کا آغاز کیا اور انہوں نے سکولز کو بہتر کرنے سے کام شروع کیا۔ایک بار تو وہ رو پڑے کہ ہمارے ملک کے مستقبل کے معمار تو دھوپ میں بیٹھ کر پڑ رہے ہیں اور حکمران اے سی والے کمروں میں بیٹھے ہیں ۔وہ کہتے ہیں میرے دادا نواب غوث بخش رئیسانی کی سیاسی جماعت تھی جس کا نام بلوچستان متحدہ محاذ تھا اس سے میرے والد سراج رئیسانی شہید نے سیاسی سفر کا آغاز 2008 سے کیا۔جب میرے دادا بھی حملے میں شہید ہوگئے تو میرے والد نے پارٹی کو بلوچستان عوامی پارٹی میں ضم کر دیا ۔وہ 2018 میں بلوچستان عوامی پارٹی کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑ ریے تھے۔جمال کہتے ہیں میرے والد نے تھائی لینڈ میں شادی کی۔میں ہاف تھائی پاکستانی ہو۔میں خوش قسمت ہو جس کو دو ملکوں کا شہری ہونا نصیب ہوا۔جمال کہتے ہیں میں تھائی لینڈ مین پڑھتا ہو اور شام کو فٹبال کی پریکٹس کرتا ہو۔میری والدہ تھائی سے زیادہ پاکستانی ہیں ۔وہ پاکستان سے بہت پیار کرتی ہیں ۔میرے والد نا صرف پاکستان بلکے تھائی لینڈ میں بھی فلاحی کام کرتے تھے جن میں ہسپتالوں کو وہ سب سے زیادہ عطیات دیتے تھے۔

میری کوشش ہے کہ میں  اپنے والد کا مشن آگے لے چلو۔ میں نے خود دہشتگردی کا سامنا کیا ہے میں عوام کا درد سمجھ سکتا ہو۔میری میڈیا سے گزارش ہے بلوچستان کو ایکسپلور کریں اور اسکو دنیا کے سامنے لائیں ۔اس صوبے کے مسائل سامنے لائیں ۔ اسکے سیاحتی مقامات کو بھی دنیا بھر میں متعارف کروائیں۔ہم سب کو یوتھ کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

وہ کہتے ہیں میری سیاست سے زیادہ سماجی کاموں میں دلچسپی ہے۔میری کوشش ہوگی بنا سیٹ کے عوام کی خدمت کرو۔آگے چل کر اگر سیاست جوائن کرنا ہوئی تو ضرور غور کرو گا کیونکہ سیاست ہمارے خاندان کے خون میں ہے۔

جمال رئیسانی کہتے ہیں میں اپنی والدہ سے ہمت اور طاقت لیتا ہو ۔میں نے خود کو مضبوط کیا ہے میں نہیں چاہتا کہ ان کی آنکھوں میں آنسو آئیں ۔میرے والد نے اپنی شہادت سے پہلے مجھے ذہنی طور پر مضبوط کیا کہ معاملات کیسے چلانے ہوتے ہیں ۔ہمارے لئے فخر کی بات ہے کہ ہمارے والد نے اپنی جان پاکستان کے لئے قربان کی۔وہ کہتے ہیں میرا مشن ہے کہ میں غریبوں کے لئے کام کرو گا میں نے بہت سختی سے اپنے آنسو روک لئے ہیں ۔والد کی کمی ہر پل محسوس ہوتی ہے لیکن یہ میرا معصم ارادہ ہے کہ انکا مشن آگے لے کر چلنا ہے



متعللقہ خبریں