ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 10

ترکی اور افریقہ کے تعلقات کا کل اور آج، صدر ترکی کے افریقی ممالک کے دورے

ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ  10

جمہوریہ ترکی کے صدر   رجب طیب ایردوان  نے ترکی  کی  افریقہ میں  سرگرمیوں کے دائرہ کار میں  مغربی  افریقہ  کے بعض ممالک کا دورہ کیا۔

اتاترک یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات    کے لیکچرار ڈاکٹر جمیل  دوآچ اپیک کا  اس موضوع پرجائزہ۔۔۔۔۔  

جمہوریہ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان  مغربی افریقہ  کے دورے کے سلسلے میں  اولین طور پر  الجزائر تشریف لے گئے۔ موریطانیہ اور اور سینیگال  کے ساتھ جاری رہنے والے  دوروں کا یہ پروگرام  مالی   کے ساتھ  نکتہ پذیر ہوا۔  اس طرح    جناب   ایردوان نے  2006 سے ابتک  مجموعی طور پر 32 افریقی ملکوں  کے دوروں کو  مکمل  کیا ہے۔ 12  سے   41 تک  بڑھائے جانے والے  سفارتخانوں اور چند سو ملین    سے  ایک سو ارب ڈالر تک بڑھنے والا  تجارتی حجم  انہی  دوروں کا مرہون ِ منت ہے۔

دوروں میں فائدہ مند مذاکرات  کیے گئے، عالمی مسائل کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا، عالمی انسداد ِ دہشت گردی اور مسئلہ القدس سمیت  کئی ایک معاملات  پر اتفاق ِ رائے  کا  عندیہ   دیا گیا۔ علاوہ ازیں دو طرفہ تجارت و سرمایہ کاری کے  مو۱قعوں کے حوالے سے اقدامات اٹھائے گئے۔  ایک  دوسرا  اہم معاملہ دہشت گرد تنظیم فیتو  کے خلاف  جدوجہد تھا۔  صدر ایردوان  نے افریقی ممالک کے سربراہان  سے  فیتو کے خلاف جدوجہد کے معاملے میں  مضبوط  تعاون  کی اہمیت پر زور دیا۔

ترکی اور الجزائر کے درمیان ان کے   مشترکہ ماضی سے چلی آنے والی دوستی  اور  برادرانہ تعلقات پائے جاتے ہیں۔ یہ تعلقات ایردوان  کے  سن 2006 میں الجزائر کے  تاریخی دورے کے   بعد  مزید پروان چڑھے، دو طرفہ اعلی سطحی دوروں  میں  تیزی آئی، اقتصادی و تجارتی تعلقات  میں فروغ آیا۔  اس دورے کے دوران  دستخط کردہ "دوستی و تعاون  معاہدہ " ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔  حالیہ ایام  میں دونوں ملکوں کے بیچ اعلی سطحی روابط اور دوروں میں اضافہ ہوا۔

ترکی کے تاریخی و مذہبی  روابط پائے جانے والے موریطانیہ   کے ساتھ سیاسی تعلقات دوستی و تعاون کی بنیاد پر فروغ پا رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے  بیچ کسی قسم کا کوئی سیاسی مسئلہ موجود نہیں۔ تا ہم سن 2008 تک  دونوں ملکوں کے  درمیان اہم سطح کی کوئی پیش رفت بھی نہیں ہوئی تھی۔ ترکی کی افریقہ  کی جانب  رحجان   پالیسیوں  کے ساتھ ہی  ان دونوں ملکوں کے درمیان  دو طرفہ اور کثیر الجہتی  پلیٹ فارموں پر اعلی سطحی روابط میں  اضافہ ہوا۔ موریطانیہ کے صدرعبدل  عزیز  کے سن 2010 میں  دورہ ترکی اور بعد ازاں دوطرفہ طور پر سفارتخانوں  کا قیام  باہمی تعلقات  اور دو طرفہ  دوروں اور روابط میں  سرعت آنے   کا موجب  بنا ۔  دونوں ملکوں کے درمیان  سن 2013 سے  باقاعدگی سے سیاسی  مذاکرات  سر انجام پا رہے ہیں۔

سن 1960  میں سینیگال  کی آزادی کے بعد   اپنے امور کا آغاز کرنےو الے ترک سفارتخانے   کے جواب میں  سینیگال نے محدود وسائل کے باوجود  سن 2006 کے ماہ اگست میں انقرہ میں  اپنے سفارتخانے کو کھولا۔  ترکی اور سینیگال کے باہمی تعلقات میں حالیہ برسوں میں   تیزی  کا مشاہدہ  ہو رہا ہے۔  یہ ملک ترکی کو خطے اور اسلامی تعاون تنظیم کے  اندر  مؤثر اقتصادیات کے ساتھ بلندی کی جانب گامزن ایک  ملک کی  نظر سے دیکھتا ہے اور  اس کے ساتھ باہمی تعلقات کو فروغ دینے کا متمنی ہے۔

ترکی اور مالی  کے تعلقات بلند سطح  کے حامل ہیں، جن میں حالیہ ایام میں مالی کے صدر، اسپیکر اور  وزیر اعظم  کے ترکی  کے دوروں کے ساتھ مزید پختگی آئی ہے۔ ترک سفارتخانے     نے فروری  سن 2010 میں دارالحکومت باماکو میں  اپنے امور کا آغاز کیا۔  صدر ِ مالی  کے سیاسی مشیر براہیم سومارے  کی 6 مئی سن 2014 کو مالی کابینہ کے فیصلے کے ساتھ  انقرہ میں بطور سفیر  تعیناتی کی گئی۔ دونوں ملکوں  کے بیچ  متعدد معاہدے قائم ہوئے، آئندہ کے دور میں  نئے  معاہدوں    کاقیام بھی متوقع ہے۔

ایردوان اور ترکی سے جانے والے مہمانوں کو افریقی ملکوں میں  بڑی پذیرائی ملتی ہے۔  اس  صورتحال کا نمایاں  سبب خطے میں سرگرم عمل دیگر اداکاروں سے   ترکی کی قدرے مختلف پالیسیاں ہے۔ ترک رابطہ و تعاون   ایجنسی تیکا  افریقہ میں پانی اور حفظان صحت کے مسائل کےخلاف نبرد ِ آزما ہے، ترک ہلال ِ احمر احتیاج مندوں  تک خوراک اور خیموں   کو پہنچا رہا ہے۔ ترک تاجران  سرمایہ کاری کرتے ہوئے مقامی  عوام کو روز گار فراہم کر رہے ہیں۔ یہ   سب ترکی کی  افریقہ حکمت ِ عملی  کے مرکزی  نظریے "افریقہ کا فائدہ ،  ترکی کا منافع "   کے عین مطابق ہے۔

افریقہ کی طرح کے ایک محل و وقوع میں  اثرِ رسوخ قائم کرنا  طویل المدت  قابل ِ سوچ ایک عمل  ہے۔ اس بات کا احتمال قوی ہے کہ ترکی آج  اٹھائے جانے والے  اقدام کے ٹھوس نتائج  چند  برسو ں بعد حاصل کر  سکے گا۔  اس بنا پر   اسے صبر و تحمل اور احسن طریقے سے اپنے روابط  پر عمل پیرا ہونا ہو گا۔ کیونکہ  ترکی ، دیگر   بڑے اداکاروں کے پیش پیش ہونے والے   خطہ افریقہ  کو نظر انداز  نہیں کرسکتا۔

صدر ایردوان نے  مذکورہ  دوروں کے دائرہ کار  میں  چار افریقی مسلمان ملکوں کا دورہ کیا،  یہ دو طرفہ تعلقات کو تقویت   دینے  کے زیرِ مقصد پورے افریقہ کے دورے کرنے پر  پُر عزم ہیں۔ میرے خیال میں اب کے بعد  جنوبی افریقہ کے دورے  سر انجام دیے جائیں گے۔ "افریقہ  پالیسی" کی بدولت صدر ایردوان   ، ترکی کی جانب سے خطے میں کسی  منصفانہ نظام  کے قیام میں  اہم کردار ادا کرنے کا ہدف رکھتے ہیں۔ آپ براعظم افریقہ کے اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکنے  پر یقین    ِ کامل کے ساتھ   طویل المدت اقدام اٹھا رہے ہیں۔ یہ اہداف کچھ حد تک ترکی   کی سٹریٹیجک  مجبوریوں   سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔

حالیہ دوروں کے دوران پیش آنے والا ایک واقع در اصل ترکوں کے افریقہ میں  دوسرے اداکاروں  سے ہٹ کر ہونے کا  ایک خلاصہ  ثابت  ہوا ہے۔ صدر ایردوان نے  ایک سوال کہ" کیا ترک   الجزائر کو  اپنی ایک کالونی کی نگاہ سے  دیکھتے تھے؟ "   کے جواب میں کہا کہ "اگر ترک  سامراجی ہوتے  تو تم یہ سوال فرانسیسی زبان کے بجائے  ترکی زبان میں  پوچھتے۔" یہ  جواب  دراصل افریقہ میں ترکی کی  مختلف حیثیت  کی  ایک ٹھوس  دلیل بھی   ثابت  ہوا ہے۔

تحریر: ڈاکٹر جمیل دوآچ اپیک



متعللقہ خبریں