پاکستان ڈائری - 10

خواتین کے عالمی کے دن کے موقع پر ہم آپ کی ملاقات ایک ایسی خاتون سے کروائیں گے جو اپنی مدد آپ کے تحت غریب و یتیم بچوں کے لئے سکول چلا رہی ہیں اور انکے سکول میں خواجہ سراؤں کے لئے جمعہ کے دن بھی محدود پیمانے پر کلاسز ہوتی ہیں

پاکستان ڈائری - 10

پاکستان ڈائری - 10

خواتین کے عالمی کے دن کے موقع پر ہم آپ کی ملاقات ایک ایسی خاتون سے کروائیں گے جو اپنی مدد آپ کے تحت غریب و یتیم بچوں کے لئے سکول چلا رہی ہیں اور انکے سکول میں خواجہ سراؤں کے لئے جمعہ کے دن بھی محدود پیمانے پر کلاسز ہوتی ہیں۔

عائشہ اقبال اسلام آباد سے تعلق رکھتی ہیں۔وہ اسلام آباد کے مضافات میں سکول چلا رہی ہیں۔ان کے بنائے گئے فیض عام ویلفیئر ٹرسٹ کے تحت سات پراجیکٹس پر کام ہورہا ہے ۔جن میں ماونٹ حرا سکول g-12/4،دسترخوان اسٹریٹ لنچ پروگرام،اقبال وکیشنل سینٹر،رحمان فری میڈیکل کیمپ،اسٹریٹ سٹور فار نیڈی، یتیم بچیوں کے لئےمیرج سپورٹ اور ٹرانسجینڈر کمیونٹی کے لئے تکریم پراجیکٹ شامل ہے۔  وہ کہتی ہیں چند سال پہلے میرے ذہین میں یہ خیال آیا کہ گلی کوچوں میں بچوں کی تعلیم کے لئے کچھ کیا جائے ۔میرے اپنے بچوں نے جب سکول جانا شروع کیا تو اس کے بعد میں نے باقائدہ طور پر کام شروع کیا۔دوستوں فیملی سے مشورہ کیا کہ کیا کرنا چاہیے اور ہم نے سڑک کنارے سکول کا آغاز کردیا ۔ایف نائن پارک کے سامنے ایف ٹین میں روڈ سکول کا آغاز کیا اور ساتھ کھانے پینے کا سامان بھی رکھتے تاکہ بچے زیادہ آئیں ۔دو گھنٹے روز کلاس ہوتی تھی بچوں کو کھانا پینا اور انعام دیا جاتا تھا۔میں اور میری دوست ہم دونوں پڑھاتے تھے۔کبھی کبھی لوگ ڈس کریج کرتے تھے لیکن فیملی،والدین اور فرینڈز نے بھرپور ساتھ دیا۔جب لوگ ہمیں دیکھتے تھے گاڑیاں روک لیتے تھے بچوں کے لئے تحائف دیتے تھے۔ٹریفک پولیس نے بہت تعاون کیا۔ 

یوں اسٹریٹ چلڈرن کے لئے پڑھائی کے انتظام ہوا۔پہلا روڈ سائیڈ سکول ایف ٹین میں اسکے بعد ایف الیون، ایف ایٹ جی الیون میں سکول کھل گئے۔پھر کچھ عرصہ گزرا میرے بھائی کے دوست نے کہا کہ انکا گھر جی -12  میں وہ چاہتے ہیں اسکو نیکی کے کام کے لئے وقف کردیا جائے۔پھر سکول پرائمری میں تبدیل ہوا تو طالب علم زیادہ ہوگیا۔ہمیں لگا جگہ کم تو سیکٹر جی بارہ فور میں زمین لے کر سکول تعمیر کیا ۔

سکول کا نام ماونٹ حراء رکھا سکول میں پلے گروپ سے کلاس فائیو تک بچے پڑھتے ہیں۔بچے جب پانچویں پڑھ لیتے ہیں تو ہم انکو ووکیشنل ٹریننگ دیتے ہیں۔آگے تعلیم کے خواہش مند بچوں کو ہم سرکاری سکولوں میں داخلہ کروا دیتے ہیں۔ہم آفاق بکس اور نیشنل بک فاونڈیشن کا نصاب پڑھا رہے ہیں۔

گزشتہ برس بورڈ کے امتحانات میں ہمارےسکول کے تمام بچے امتیازی نمبروں کے ساتھ پاس ہوئے۔

عائشہ اقبال کہتی ہیں سکول کو چلانے کے لئے فنڈز ہمیں اپنی فیملی اور فرینڈز سے ملتے ہیں۔ہمارا کام دیکھ کر فیس بک سے بھی لوگ ہماری مدد کرتے ہیں۔اس کام میں مجھے میری دوست رضوانہ کا تعاون سب سے زیادہ حاصل ہے وہ ماونٹ حراء کی پرنسپل بھی ہیں۔انکی بہن وائس پرنسپل ہیں وہ دونوں بھی میری طرح رضاکارانہ طور پر کام کررہی ہیں۔دیگر اساتذہ کو ہم پے کرتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ سکول میں ہم سلیبس پر بہت توجہ دیتے ہیں سکول دو بجے شروع ہوتا ہے اور 6 بجے چھٹی ہوجاتی ہے۔اکثر بچے صبح میں کام کرتے ہیں اس لئے انہیں شام کی کلاس سوٹ کرتی ہے۔پڑھائی کے ساتھ ساتھ ہم بچوں کو کمپیوٹر بھی سیکھا رہے ہیں۔قرآن پاک بھی بچوں کو پڑھایا جاتا ہے۔اس وقت طالب علموں کی تعداد 150 ہے۔اب پلان کررہے ہیں کہ سکول کو سیکنڈری کا درجہ دے دیا جائے۔

عائشہ نے ٹی آر ٹی کو بتایا کہ سکول میں جمعے کے روز خواجہ سراؤں کے لئے بھی خصوصی کلاس ہوتی ہے۔یہ لوگ بہت استحصال کا شکار ہیں ۔میری خواہش ہے ان سب کو بھی معاشرے میں احترام ملے۔میں انکی کمیونٹی میں گئ وہاں پر بات کی کچھ رضامند ہوگئے اور 15 خواجہ سراء اسٹوڈنٹس نے سکول جوائن کرلیا ۔تکریم پراجیکٹ کے تحت ہم ان سے بات چیت کرتے ہیں ان کی قرآن مجید ،کمپییوٹر ، کوکنگ اور کڑھائی سلائی کی کلاس ہوتی ہے ۔تاہم یہاں پر یہ بات افسوسناک ہے کہ اس طرح کی ٹریننگ کے باوجود لوگ انکو جاب نہیں دیتے یہ آمر افسوسناک ہے۔ہم تو کوشش کررہے ہیں معاشرے کا تعاون درکار ہے۔

 



متعللقہ خبریں