حالات کے آئینے میں ۔ 09

حالات کے آئینے میں ۔ 09

حالات کے آئینے میں ۔ 09

پروگرام " حالات کے آئینے میں " کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ شام کے دارالحکومت دمشق  کے مشرق میں واقع اور جبّار کی طرح شہر کے مرکز میں واقع دیگر محلّوں پر مشتمل مشرقی الغوطہ کا علاقہ سال 2013 سے اسد انتظامیہ اور انتظامیہ حامی ملیشیا کے زیر محاصرہ ہے۔ مشرقی الغوطہ کا علاقہ حالیہ دنوں میں اسد انتظامیہ اور روس کے سب سے زیادہ فضائی حملوں کا سامنا کر رہا ہے۔ 3 دنوں میں 250 سے زائد شہریوں کو ہلاک کئے جانے کے بعد آخر کار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا جس میں شام  بھر میں فائر بندی کے سمجھوتے پر اتفاق رائے کیا گیا۔ لیکن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا فیصلہ عملاً شام کی جنگ کے اور مشرقی الغوطہ کے قتل عام کے جاری  رہنے کا مفہوم رکھتا ہے۔ حملوں میں، خاص طور پر صحت کے مراکز  اور بیکریوں جیسے عوام کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے والے مقامات کو نشانہ بنایا جانا علاقائی عوام کو درپیش المیے کو مزید گھمبیر کر رہا ہے۔

سیاست ، اقتصادیات اور تحقیقات کے وقف SETA کے محقق و مصنف جان آجون  کا موضوع سے متعلق تجزئیہ آپ کے پیش خدمت ہے۔

ادلب میں آستانہ مرحلے کے دائرہ کار میں ترک مسلح افواج کی طرف سے تین مختلف  کنٹرول چوکیوں  کے قیام کے بعد واضح طور پر جھڑپوں کے خاتمے کا مشاہدہ کیا گیا۔ آستانہ مرحلے کے دوران حمص، غوطہ اور درعا کے علاقوں میں بھی جھڑپوں کا خاتمہ ضروری ہے تاہم ان علاقوں میں ترک مسلح افواج کی کنٹرول چوکیاں موضوع بحث نہیں ہیں۔ ادلب میں جھڑپوں کے خاتمے پر اسد انتظامیہ اور انتظامیہ حامی ملیشیا فورسز مشرقی الغوطہ کے علاقے کی طرف پیس قدمی کر گئے ہیں اور چھوٹے پیمانے کے آپریشن کر رہے ہیں۔

زمینی آپریشن شروع ہونے سے پہلے مشرقی الغوطہ کے علاقے میں انتظامیہ اور روسی فضائیہ کی طرف سے بمباری کی جا رہی ہے۔ روس اور اسد انتظامیہ نے شہری اور فوجی کی تفریق کئے بغیر علاقے میں بمباری کی اور حلب کی صورتحال سے مشابہہ شکل میں 'سکورچڈ ارتھ' یعنی ہر چیز کو جلا کر اور اپنے پیچھے ہر چیز کو برباد کر کے گزرنے  کی اسٹریٹجی کے اطلاق کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے ۔ اس اسٹریٹجی کے نتیجے میں مشرقی الغوطہ میں حقیقی معنوں میں ایک قتل عام ہونے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل  کا اجلاس ہوا۔ روس کی طرف سے ویٹو کے خطرے پر سلامتی کونسل کی طرف سے علاقے میں ایک غیر حقیقی عمومی فائر بندی کا اعلان کیا گیا ہے۔ دہشت گرد تنظیموں داعش اور القائدہ کو فائر بندی کے احاطے میں رکھنا  اور پابندیوں  کے میکانزموں کی تشکیل نہ کیا جانا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فیصلوں میں جھول ڈال رہا ہے اور پابندی و ذمہ داری کے زمرے سے نکال رہا ہے۔

نتیجتاً روس سرکاری طور پر شام میں صرف داعش اور القائدہ کے خلاف جدوجہد کر رہا ہے لیکن میدان کی حقیقیت یہ ہے کہ روس نے معتدل مخالفین کو اپنے اوّلین ہدف  بنا رکھا ہے اور شہریوں اور فوجیوں کی تفریق کئے بغیر بمباری کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل  کے فائر بندی کے فیصلے  کی خلاف ورزی کی صورت میں پابندیوں کی کسی بھی میکانزم کی تشکیل نہ ہونا فیصلے پر عمل درآمد کو مکمل طور پر رضا کارانہ سطح پر لا رہا ہے۔

علاوہ ازیں روس کا  یہ اعلان کہ مشرقی الغوطہ کے احرار الشام اور جیش الاسلام  گروپ، ہیت تحریر الشام کے ساتھ مل کر کاروائیاں کر رہے ہیں اور فائر بندی کے حکم سے باہر ہیں، اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فیصلہ متن کو بد نیتی پر مبنی  مفہوم دیا جا سکتا ہے۔ اس دوران مشرقی الغوطہ میں جیش الاسلام اور ہیت تحریر الشام کے درمیان متعدد جھڑپیں ہو چکی ہیں اور جیش الاسلام نے ہیت تحریر الشام سے متعدد افراد کو گرفتار کیا ہے۔ جس وقت روس نے مذکورہ بالا بیان جاری کیا اس وقت احرار الشام ادلب کے علاقے میں ہیت تحریر الشام کے خلاف وسیع پیمانے  کا آپریشن جاری ر کھے ہوئے تھی۔

کھلے لفظوں میں کہا جائے تو  روس اور اسد انتظامیہ کے مشرقی الغوطہ کے علاقے میں کئے گئے حملوں کو قتل عام کہنا درست ہو گا۔ مشرقی الغوطہ ایک گنجان آباد علاقہ ہے۔ زیر محاصرہ اور براہ راست ہدف بنائے جانے والے لاکھوں شہری حقیقی معنوں میں قدم بہ قدم ہلاک کئے جا رہے ہیں۔

روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فیصلے کے بعد نام نہاد 'خیر سگالی' کے مظاہرے کے طور پر ہر روز مشرقی الغوطہ  کے علاقے میں مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بجے سے دن 2 بجے کے درمیان 'انسانی فائر بندی'  کا اعلان کیا ہے۔ لیکن اعلان کی گئی اس فائر بندی  کی اسد انتظامیہ اور انتظامیہ حامیوں کے ملیشیاوں کی طرف سے پہلے دن سے  ہی خلاف ورزی کی گئی۔ مشرقی الغوطہ کی سول ڈیفنس ٹیموں کی طرف سے موصول معلومات  کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فیصلے کے بعد  روس کے مقامی وقت کے مطابق 9 بجے سے 2 بجے تک فائر بندی کا اعلان کرنے کے باوجود اسد انتظامیہ نے مشرقی الغوطہ کو نشانہ بنانا جاری رکھا۔ انتظامیہ نے ساڑھے 9 بجے کے قریب علاقے کی شہری آبادیوں میں سے دُوما، بیت الساوا اور مریچ کے علاقوں میں توپ فائرنگ  کرنا شروع کر دی۔

تاہم ترکی آستانہ مرحلے کے ضامن ملک کی حیثیت سے  مشرقی الغوطہ کی جھڑپوں کو آستانہ مذاکراتی مرحلے  کے پلیٹ فورم  سے روکنے کے لئے اقدامات کر رہا ہے۔ آستانہ مذاکرات کے پلیٹ فورم سے روس اور اسد انتظامیہ  سے مشرقی الغوطہ پر حملوں کو  رکوائے جانے کا احتمال اقوام متحدہ کے پلیٹ فورم سے جاری اقدامات  کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ ہے۔ آستانہ مذاکراتی مرحلے سے کوئی نتیجہ نکلنے تک ترکی علاقے میں موجود زخمیوں کے علاج اور انسانی امداد کو علاقے میں پہنچانے  کے لئے کمر بستہ ہو گیا ہے۔

مشرقی الغوطہ میں درپیش انسانی المیہ اصل میں شام کے اندر موجود الجھے ہوئے توازنوں، روس اور اسد انتظامیہ  کی پوزیشنوں سے زیادہ اقوام متحدہ  کے اسٹرکچرل مسائل کی وجہ سے روکا نہیں جا پا رہا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 5 مستقل نمائندے عالمی امن  میں کردار ادا کرنے کی جگہ اپنے مفادات کو پیش نظر رکھ کر حرکت کر رہے ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ آج کسی ثالثانہ فارمولے کی مدد سے مشرقی الغوطہ کے قتل عام کو کم کیا جا سکے یا  پھر اس معاملے کے تمام اقدامات ناکام ہو جائیں  لیکن اصل میں جب تک اقوام متحدہ کا نظام تبدیل نہیں ہو جاتا دنیا بھر میں اور بہت سے مشرقی الغوطہ ہو گے کہ جہاں در پیش المیوں پر قابو نہیں پایا جا سکے گا۔ 



متعللقہ خبریں