ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 09

ترکی اور آذربائیجان کے سفارتی تعلقات کا ماضی اور آج

ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ  09

ترکی اور آذربائیجان کے مابین سفارتی تعلقات  کے قیام کو 26 برس گزر چکے ہیں۔ دو طرفہ  تعلقات    ہر شعبے میں بتدریج  گہرائی حاصل کرتے جا رہے ہیں۔۔

اتاترک یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات  کے لیکچرار ڈاکٹر جمیل دوآچ اپیک کا اس موضوع پر جائزہ۔۔۔

14جنوری سن 1992 کو  آذربائیجان اور ترکی کے مابین  قائم ہونے والے  سفارتی تعلقات  کے قیام  کو اب 26 سالوں کا عرصہ بیت چکا ہے۔ جمہوریہ ترکی ، 30 اگست سن 1991 کو اعلان ِ آزادی کرنے والے جمہوریہ آذربائیجان   کو 9 نومبر سن 1991 میں  تسلیم کرنے والا پہلا ملک تھا۔ سن 2010 میں اس کے ساتھ سٹریٹیجک حصہ داری اور دو طرفہ امدادی  سمجھوتے پر  دستخط کیے گئے۔ اس سمجھوتے کی بدولت  دو طرفہ تعلقات کو فوجی اتحاد کی سطح تک بڑھایا گیا ۔ اس معاہدے کی دوسری  شق،  اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق  جائز مزاحمت کے حق  سے متعلق 51ویں شق  کا حوالہ دیتے ہوئے  طرفین  میں سے کسی ایک کے تیسرے ملک یا ملکوں  کے حملوں کا سامنا کرنے کی صورت میں  ایک مشترکہ سیکورٹی اور دفاعی پیش نظر  تشکیل   دیے جانے پر مبنی ہے۔ دو طرفہ تعلقات کو  مزید فروغ دینے کے  زیر مقصد سن 2010 میں صدارتی سطح پر اعلی سطحی  حکمت عملی  تعاون کونسل میکانزم کا قیام عمل میں آیا۔جس کی بدولت فوجی، سیاسی، انرجی اور دیگر شعبوں میں دو طرفہ تعلقات  کو بلند ترین سطح تک بڑھایا گیا۔ اس طرح فوجی، سیاسی، توانائی اور دیگر شعبوں  میں دو طرفہ تعلقات   بلند ترین   سطح تک قائم ہوئے۔

سٹریٹیجک  شراکت داری اور دو طرفہ امدادی  سمجھوتے  میں  کلیدی اہمیت کا حامل ایک عمل درآمد 7 ویں شق کے زمرے میں آتا ہے۔ جس کے مطابق دونوں ملکوں کی مسلح افواج کے درمیان   کمان کی ذمہ داری  اور قوتوں کے ڈھانچے  میں رابطے قائم کیے جا رہے ہیں۔ یہ صورتحال   کسی مشترکہ  فوجی کاروائی کی راہ ہموار کرتی ہے۔ ویسے بھی چند برسوں سے  ترکی۔آذربائیجان  فوجی مشقوں کا انعقاد ہو رہا ہے۔ ان مشقوں میں مشترکہ کاروائی کی استعداد    میں  حربے اور آپریشنل سطح   کو حاصل کر لیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں حکمتِ عملی کی سطح  کے حصول کے  معاملے میں بھی  خوش آئند  پیش  رفت سامنے آئی ہے۔

ترکی۔ آذربائیجان  فوجی اتحاد ترک  دفاعی صنعت  میں بھی بار آور ثابت ہو رہا ہے۔ اس تعاون کا اہم ترین پہلو ترکی کے  قومی  ملٹی بیرل  میزائل  لانچر  سسٹم کی آذربائیجان کو برآمدات ہے۔  سکاریہ اورسائیکلون سسٹمز نے آذربائیجان کی مسلح  افواج کو فائرنگ  کی  اعلی سطحی صلاحیت   فراہم کی ہے۔ اس چیز کا مشاہدہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان  اپریل  2016  میں ہونے والی جھڑپوں  میں ہوا تھا۔

آذربائیجان کے لیے ناہچیوان  میں متعین فوجی دستے  حد درجے اہمیت کے حامل ہیں۔  ان دستوں کی تربیت، لاجسٹک  تعاون اور دیگر اہم  ضروریات کو پورا کرنے میں ترک مسلح افواج کی تھرڈ آرمی  معاونت فراہم کررہی ہے۔ جون 2017 میں 5 ہزار  فوجیوں کی شراکت سے سر انجام پانی  والی ترک۔ آذربائیجانی  مشترکہ ناہچیوان مشقیں  اس حوالے سے ایک اہم پیش رفت  کی حامل  تھیں۔

بحیرہ کیسپیئن کے توانائی  کے وسائل کو عالمی منڈی  تک پہنچانے کے زیر مقصد"باقو۔تبلیسی۔جیہان    تیل پائپ لائن "اور باقو۔تبلیسی۔ ارض روم قدرتی گیس پائپ لائن"  منصوبے،آذربائیجان اور ترکی کے مابین  بھائی چارے  سے لیکر شراکت داری تک  کے سفر میں  اہم اقدامات کو  تشکیل  دیتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے بیچ تجارتی حجم 5 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے، جسے سن 2023 میں  15 ارب ڈالر  تک  پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا  ہے۔ کسی  عالمی منصوبے کی حیثیت رکھنے والے تاناپ یعنی  ٹرانس اناطولیہ قدرتی گیس پائپ  لائن  منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے سرعت سے کام  جاری ہے۔   تاناپ   کی تکمیل کے  ساتھ ہی آذربائیجان اور ترکی کی حیثیت اور  خطے میں ان کی سٹریٹیجک  اہمیت  میں  قابل ذکر حدتک اضافہ ہو گا۔

دو طرفہ اعتماد و تعاون کی بنیادوں پر استوار  آذربائیجان۔ ترکی  تعلقات  بین  الاقوامی پلیٹ فارم پر بھی  آگے  بڑھ  رہے ہیں۔ دونوں مملکتیں  متحدہ اتحاد، یورپی سلامتی و تعاون تنظیم ، یورپی  کونسل، بحیرہ اسود اقتصادی تعاون تنظیم،  ترک کونسل اور اسلامی تعاون  تنظیم میں  ایک کامیاب   باہمی تعاون  کا مظاہرہ  کر رہی ہیں۔

دونوں  ملکوں کے مابین  اچھے تعلقات   کا  کسی دوسرے بین الاقوامی تعلقات  کے ساتھ موازنہ  نہ کیے جا سکنے کی بنا  پر ناقابل ِ تشریح ہیں۔ آذربائیجانی عوام کا ترک عوام کی طرح  اعوز  نسل سے تعلق رکھنا، تاریخی  سلسلے  کے اندر   مل جل کر  ایک ہی سر زمین پر  زندگی بسر کرنے  سے چلے آنے والے ماضی کے روابط  اور  جغرافیائی قربت  ان دونوں ملکوں  کے بیچ قریبی ڈائیلاگ کے قیام میں آسانیاں لاتی ہے۔ دونوں ملکوں کے صدور کے بر سر ِ اقتدار آنے پر ایک دوسرے  کے ملک کے دورے کو اولیت دینا  بھی اب ایک رِیت بن چکا ہے۔

ترکی۔ آذربائیجان تعلقات، علاقے میں استحکام  و امن کے قیام کے  اغراض و مقاصد کے حامل ہیں۔ علاوہ ازیں  یہ 'حکمتِ عملی شراکت داری'  نظریے کی صحیح معنوں میں تشریح کرتے ہیں۔ دونوں مملکتوں کے مابین 26 برس جیسی قلیل مدت میں حاصل کردہ کامیابیاں اور گٹھ جوڑ  ناقابل  متاثرہ  برادرانہ  روابط کا واضح مظہر  ہیں۔

14 اکتوبر سن 1921 میں آذربائیجان کے انقرہ  میں نمائندےابراہیم ابی لوف   کی جانب   سے سفارتی اسناد  پیش کیے جانے والے اجلاس میں  مصطفی ٰ کمال اتاترک کی جانب سے  صرف کردہ الفاظ"آذربائیجان کی خوشی ہماری خوشی، اس کی تقدیر ہماری تقدیر ہے" کا جواب   کئی  برسوں بعد حیدر علی یف نے  "ایک قوم ، دو مملکتیں" کہتے  ہوئے  دیا تھا۔ عصر ِ حاضر میں ترکی اور آذربائیجان کے باہمی تعلقات، جمہوریہ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان اور آذربائیجان کے صدر الہام علی یف  کے اعلی عزم، ہمت اور پختہ ارادے  کےمرہون منت ہیں۔



متعللقہ خبریں