عالمی نقطہ نظر07

مغربی تھریس کی ترک اقلیت اور ان کی حالت زار

عالمی نقطہ نظر07

عالمی نقطہ نظر 07

Küresel Perspektif

Batı Trakya Türkleri: Asimilasyona Hayır

Prof Dr.Küdret Bülbül

07/18

 

ایک لمحے کےلیے  ذرا سوچیں  کہ  آپ کا قومی تشخص کیا ہے   اور آپ کے آباو اجداد  صدیوں سے آپ کے وطن میں آباد ہونگے  مگر  صرف آپ کا  آبائی وطن آپ  کو  اپنی قوم  ماننے سے انکار کردے  تو آپ کیا کریں گے؟

 یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی ملک اپنے کسی نسلی طبقے کو  قبول نہ کرے  تو اس پر کیا اثر پڑے گا۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ   اپنے حدود اربعہ میں آباد مختلف نسلی طبقوں   کے تشخص کو  قبول کرتےہوئے ان کا احترام کرے جو کہ ایک مہذب دنیا    کا تقاضا بھی ہے  ۔

 مگر آج بھی یورپی یونین کا ایک رکن ملک  ایسا ہے جو   اپنی سر زمین پر بسے  عوام  کو   اپنی شہریت دینے  اور ان کی حب الوطنی پر  شک  کی نگاہ رکھےہوئے  ہے ۔ یہ ملک ترکی کا ہمسایہ یونان ہے  جہاں کی ترک نژاد  اقلیت   سالہا سال سے  اپنے تشخص کی جنگ لڑ رہی ہے ۔

 مغربی تھریس   کی ترک آبادی    اس زمانے  سے یہاں آباد ہے جب دولت عثمانیہ کا وجود بھی نہیں تھا ۔ علاقے سے دولت عثمانیہ کے انخلا کے بعد اُن کے  جان و  مال کے تحفظ کی ذمے داری  عالمی   معاہدوں  کے زیر ضمانت  لینے کا  اعلان ضرو رکیا گیا مگر یہ صرف کاغذی  کاروائی تک ہی محدود رہی  جس کا تاحال کوئی پرُسان حال نظر نہیں آتا ۔

 سیاسی ،اقتصادی  اور  معاشرتی حقوق  بلا شبہ اہم اور   بنیادی ضرورت ہیں  لیکن  انسان کی نسلی شناخت   کا اپنا ایک منفرد مقام  ہے جو کہ اس کی پہچان ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی معاہدے کی شق نمبر 6 اسی بات کی توضیع کرتی ہے  کہ  اس کا نسلی تشخص   ریاستی نہیں بلکہ اس کا ذاتی   حق اور اس کا  بنیادی عنصر ہے  ۔

یہی وجہ ہے  شائد   ایمل  مالوف  کی کتاب  "موذی   تشخص " میں انسانی  شناخت   اور اسے درپیش مسائل و مصائب  کو موضوع بنایا گیا ہے   چونکہ  اپنے تشخص اور وجود  سے انحراف کرنے والا انسان    اپنی موجودگی    کو ثابت کرنے کےلیے ہر قسم کے دباو کا سامنا کرتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک مثال یوں دی جا سکتی ہے کہ  ابتدائی دور کے مسیحیوں اور مسلمانوں نے  اپنے  تشخص   کےلیے  کافی مظالم برداشت کیے ۔

مغربی تھریس کی ترک اقلیت کے حقوق کے علمبردار ڈاکٹر صادق احمد 

 

مغربی تھریس  کی ترک اقلیت  کا مسئلہ  بھی  یہی  ہے   جنہوں نے  سن 1927 میں"  ایکزانتھی ترک انجمن"   قائم کی جو کہ بلا کسی  مشکل کے  سن 1980 تک اپنے حقوق کا دفاع کرتی رہی   مگر سن 1983 میں  اس انجمن کو   ترک  لفظ کی پاداش  میں  یونانی حکام نے بند کرنے کا  حکم دیا ۔ یونان کا کہنا تھا کہ  ہماری سر زمین پر ترک  تشخص کا کوئی تصور نہیں ہے  جس پر  ترک مسلمان  اقلیت   نے اس حق   کی سنُوائی  کےلیے یورپی حقوق انسانی  کا در کھٹکھٹایا  جس نے سن 2008 میں   اس تنظیم کو حق بجانب قبول   کیا مگر حکومت یونان  نے  اپنی ہٹ دھرمی ظاہر کی اور یورپی عدالت کا فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا ۔ مغر بی تھریس کی ترک اقلیت  تاحال اپنے   تشخص کےلیے جدوجہد جاری رکھے  ہوئے ہے  اور  یورپی یونین کی  جانب انصاف کے حصول کی حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہی ہے  مگر یہ معاملہ ہے کہ بلا وجہ طوالت کا شکار ہے۔

  29 جنوری  سن 1988   کو ترک اقلیت   نے  یونانی  فیصلے کے خلاف  ایک مظاہرہ کیا  جسے ہر سال اسی روز    قومی  یوم مزاحمت کے طور  پر منایا جاتا ہے۔ سن 1990 کی بات ہے کہ اس دن کو منانے والی ترک اقلیت کے پُر امن مظاہرے  پر یونانیوں نے حملہ کر دیا  ۔ان کی املاک لوٹ لی گئیں  ، دو ترک  نژاد رکن پارلیمان زخمی بھی ہوئے مگر یونانی پولیس اس ساری صورت حال پر خاموش تماشائی بنی  رہی ۔

 حکومت  یونان صرف ترک اقلیت کے تشخص سے ہی نہیں بلکہ    قوانین  کی  خلاف ورزی کرنے سمیت مفتی اعظم کے   انتخاب   میں بھی رخنہ ڈالتےہوئے   مذہبی  آزادی    کے پرخچے اڑانے میں مصروف ہے  حتی  ملکیتی حقوق میں مداخلت  اور ان پر جبری قبضۃ کرتےہوئے    تعلیمی حقوق بھی غصب  کرتی نظر آ رہی ہے ۔

 یونانی حکومت  کی ان خلاف ورزیوں کے بر خلاف ترکی میں   مختلف گرجا گھروں  کی تزیئن نو اور انہیں عبادت  کےلیے  کھولنے  اور مسیحی مشن اسکول   میں  دوبارہ سے  تدریسی سرگرمیوں کا آغاز  یہ  وہ مثبت اقدامات  ہیں   جو کہ حکومت وقت کی  مذہبی  رواداری کی  پالیسیوں کا ثبوت ہیں۔

 اس ساری  صورت حال  کا  منفی پہلو یہ ہے کہ  یورپی یونین   اور دیگر عالمی اداروں کی اس معاملے میں پالیسیاں  ناکارہ ثابت ہورہی ہیں  جس پر اسلامی دنیا  کی واقفیت بھی نہ ہونے کے برابر ہے ۔

 امید ہے کہ  یونان، حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں پر مبنی  رپورٹ پر اپنی ذمے داریوں کو پورا  کرے  گا۔

 

Ankara Yıldırım Beyazıt Üniversitesi Siyasal Bilimler Fakültesi Dekanı Prof. Dr. Kudret BÜLBÜL’ün konuyla ilgili değerlendirmesini sunuyoruz...

 

 

 

 

 

 

 



متعللقہ خبریں