عالمی نقطہ نظر 06

ماضی کی گرد آلود شخصیات اور فرسودہ حکومتی نظام

عالمی نقطہ نظر 06

عالمی نقطہ نظر 06

Küresel Perspectif

06/18

Gittikçe parçalanan aidiyetler insanlığı nereye götürür

Prof Dr.Küdret Bülbül

 

 

اس دور زندگی     کے واقعات پر   اگر نگاہ ڈالی جائے تو  پہلی جنگ عظیم  سے پہلے  کا وقت یاد آجا تا ہے۔

  آج سے  1 صدی قبل  دنیا کے سیاسی افق پر  بعض نئے نام ابُھرنا  شروع ہو گئے اور     دنیا کے  شاہی   نظاموں  کے خلاف ایک بغاوت    کا  شور مچنا شروع ہو گیا ۔ دنیا کے ہر کونے   سے ایک نیا نام سیاست میں نمودار ہو رہا تھا جس کے نتیجے میں  خلافت عثمانیہ،   آسٹریا اور ہنگری کا تخت  زمین بوس   ہوا اور ان کی جگہ ک جمہوریت نے لے لی ۔

 یہ جائزہ  آپ کی خدمت میں  یلدرم با یزید یونیورسٹی کے  شعبہ سیاسی علوم  کے  پروفیسر ڈاکٹر  قدرت بلبل کے قلم سے  پیش  کیا جا رہا ہے۔

  دنیا انقلاب فرانس اور   انسانیت پر  نام نہاد قوم پرستی       کا لبادہ اوڑھنے میں  تاحال مصروف ہے اور یہ وبا    اس کرہ ارض    میں ایک ناسور کی طرح پھیلتی جا رہی ہے ۔  عالم اقوام   اس صدی کی دو اہم جنگوں سے سبق حاصل کرنے کے بجائے     ایک اور جنگ میں دنیا کو  جھونکنے     کے بہانے تلاش کر رہی ہیں۔یہ وہی صورت حال ہے  جس  کا اثر بلقانی ممالک،مشرقی یورپ  اور مشرق وسطی    پر راہ راست پڑ رہا ہے اور اسی ڈگر پر  اسپین    بھی چل رہا ہے کہ کاتالونیا آزادی کا طلبگار ہے ۔

 شاہی طرز حکومت ختم ہونے  کے  بعد  دنیا میں  نئی ریاستوں کا قیام عمل میں آیا مگر    دنیا  کا ا من  ایک سوالیہ  نشان بنا رہا  اور ایسے لیڈر سامنے آئے جو اس دنیا کو ایک بارود کے ڈھیر میں بدلنے کو  اپنا فرض  سمجھتے رہے  اور یہ صورت حال اب  بھی جاری ہے اور دنیا    اقتدار اور طاقت کی ہوس میں  ایک نہ ختم ہونے والے طوفان    کی راہ ہموار کر  تے ہوئے ہمیں  مذہبی  و نسلی نفرت کی آگ  میں جھونک رہی ہے۔

در حقیقت یہ  سارے واقعات  دنیا کےلیے نئے نہیں ہیں ۔  زمین داری نظام کا رواج قائم ہوا اور لوگوں سے  زمین کے بدلے  مقامی آبادی کو  اپنا  زر خرید غلام بنانا شروع کر  دیا ۔

     انسانی معاشرے     کو کثیر الجحتی  سماجی رنگ میں  ڈھالنے  کےلیے  دنیا کے   طاقتور ممالک نے اپنی دھاک دیگر ممالک پر  بٹھانا شروع کر دی  جس کی وجہ سے   دنیا ، نفسیاتی  اور  معاشی  و  معاشرتی   مسائل کی دلدل میں دھنستی چلی گئی  اور دہشتگردی  جیسا   ناسور  جڑ پکڑتا  گیا ۔

 دنیا یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ آخر کار  اس کا خمیازہ ہمیں کب تک بھگتنا پڑے گا اور نام نہاد  مغربی  انسانی معاشرہ  کب تک  مظلوم   اقوام کی   دہائی پر   اپنے کان اور آنکھیں بند رکھتے ہوئے    نسلی و مذہبی  منافرت  کا بیج ہمارے درمیان بوتا رہے گا۔

 عالمی نظام     کا  جہاں تک سوال ہے تو وہ  تقسیم   اور تسخیر  کے  نظریے  پر  ہماری قسمت کا فیصلہ کرنے میں  پیش پیش ہے   جو کہ معلوم نہیں کب تک چلے گا؟

  اگر ہمیں ان تمام مسائل  سے نجات چاہیئے تو  آپس میں نفاق کے بجائے   معاشروں کو آپس میں  ملانے   کا راستہ باہمی مفاہمت ،اتحاد و محبت سے  تلاش کرنا ہوگا۔

ہمیں اس دنیا کو  امن  کا دوبارہ سے گہوارہ بنانے کے لیے  اسلامی تعلیمات کا سہارا بھی لینا ہوگا   جو کہ   امن   کی مکمل تعلیم دیتا ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک  میں  مختلف النوع  لسانی و مذہبی طبقے  پائے جاتے ہیں جن کے درمیان ہم آہنگی  پیدا کرنے   ایک مشترکہ لائحہ عمل اور سود مند پالیسیاں ترتیب دینے کی ضرورت ہے  اور حکمرانوں کو  چاہیے کہ  وہ ان تمام عناصر کے خلاف محتاط رہیں جو کہ نفرت پھیلنے کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔

 معلوم ہے کہ  یہ تمام بیان کردہ باتیں   عالمی سامراجی نظام کے شکنجے میں مقید انسانوں  کے لیے  محض وقت گزاری اور تسلی کا کام کریں گی ۔  مان لیجیے اگر یہی دنیا کا چال چلن ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم اسے ایسے ہی  رحم و کرم پر چھوڑ دیں اور  اور دنیا بدلنے کا ارادہ ترک کر دیں  مگر یہ مت بھولیں   کہ دنیا کے  تقریباً ہر  مقام پر  مائیکرو پالیسیاں اگر مستحکم ہیں   تب بھی  ایسے مکتبہ فکر اور  طبقات  موجود ہیں جو کہ انسانی کے نام پر    دنیا کو غلط کاموں سے جھنجھوڑنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔

 

Ankara Yıldırım Beyazıt Üniversitesi Siyasal Bilimler Fakültesi Dekanı Prof. Dr. Kudret BÜLBÜL’ün  konuyla ilgili değerlendirmesini sunduk

 



متعللقہ خبریں