عالمی معیشت41

ترک فلو پائپ لائن منصوبہ اور ترکی

عالمی  معیشت41

10 اکتوبر سن 2016 کو  ترک فلو پائپ لائن معاہدے  کے منصوبے پر دستخط  کیے گئے  جو کہ اس وقت تیزی سے تکمیل کے مراحل طے کر رہا ہے۔ حال ہی میں  اس منصوبے     کے سمندری  حصے سے متعلق  ایک  ماحول  دوست  جائزاتی رپورٹ وزارت توانائی  نے منظور کی ہے  جس میں  ماحولیات و  انسانی معاشرے پر  پڑنے والے ممکنہ منفی اثرات سے بچاو کےلیے ضروری تدابیر   اختیار کی گئی ہیں۔

 یہ پائپ لائن روس  کے بحیرہ اسود پر موجود ساحلی علاقوں سے ہوتی ہوئی    ترکی  میں داخل ہو گی  جہاں سے اس کی  یورپ تک  رسائی کو بھی ممکن بنایا جائے گا۔ اس منصوبے میں  دو عدد پائپ لائینیں بچھائی جائی گی    جو کہ خشکی اور بحری راستوں  پر مشتمل ہونگی ۔ مئی 2017 میں  بحری پائپ  لائن  کےمنصوبے پر کام  شروع ہو چکا ہے  جس  کی استعداد  31٫5 ارب  کیوبک میٹر  گیس ہوگی ۔

 روس  اس وقت گیس کی برآمدات میں  نمایاں   مقام کا حامل ملک ہے  جو کہ اپنے  ذخائر کو دنیا کے  بیشتر بازاروں میں   فروخت کرنے کا طالب ہے  جس کےلیے  اس نے ترکی جیسے اہم  اور جغرافیائی اعتبار سے  سود مند ملک  کا انتخاب کیا ہے ۔

    ترک فلو پائپ لائن کا یہ منصوبہ  روس اور ترکی دونوں کےلیے  تجارتی   لحاظ سے مفید ثابت ہوگا۔

 وسائل توانائی کے اعتبار سے روس کا فی مالا مال ہے   جسے بر وقت اور محفوظ   راستوں سے دنیا کے دیگر ممالک تک پہنچانے کےلیے یہ منصوبہ  اہمیت  رکھتا ہے۔ اس منصوبے    کے نتیجے میں   ترکی  جیسے ملک کا گیس کی  درآمد پر غیر ملکی انحصار بھی کم کرنے میں مدد ملے گی ۔گزشتہ سال   ترکی نے  42 ارب  کیوبک میٹر گیس    کا سالانہ استعمال کیا جس میں ہر گزرتے وقت اضافہ  ناگیزر ہوتا جا رہا ہے۔

 اس لحاظ سے  ترک فلو پائپ لائن منصوبہ    ملکی طلب کو مد نظر رکھتےہوئے  پایہ تکمیل کو پہنچایا جائے گا اس کے علاوہ  توانائی کی تجارت  میں بھی یہ منصوبہ ترکی کو دنیا میں مرکزی حیثیت  دلوانے میں  مددگار ثابت ہوگا۔

 جغرافیائی  لحاظ سے ترکی کا محل وقوع  اہمیت کا حامل ہے  جہاں سے وہ  بالخصوص توانائی   کی تجارت کےلیے   ایک مرکز  ی مقام حاصل کر سکتا ہے۔ چنانچہ ، عالمی توانائی کے بازار میں     ترکی کو اپنی حیثیت منوانےکےلیے  اس سے مشابہہ منصوبوں  کی ضرورت ہے  جس سے ملکی معیشت پر بھی اچھے اثرات مرتب ہونگے۔ روس اور ترکی کے درمیان  اس سلسلے کا پہلا منصوبہ  سن 1997 میں طے ہوا تھا  جس کے بعد سن 2010 میں اق قویو جوہری تنصیب     کے منصوبے نے دو طرفہ  تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں  اہم کردار ادا کیا ۔

نتیجتاً ترک فلو گیس پائپ لائن  منصوبے         کے مراحل   زیر تکمیل ہیں جس سے ملکی  معیشت کو  بھی خاطر خواہ سہارا ملے گا۔

 وسائل توانائی  اور منڈیوں   کی وسعت    حتی  توانائی بازار  کے قیام میں   سرمایہ کاری   کےلیے بھی  ترکی    اپنی صلاحیتیوں کو منوانے کے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا  متمنی ہے  جس کی بدولت    توانائی  کی منڈیوں میں ترکی کا  شمار ایک قابل اعتماد اور محفوظ   ملک کے طور  ہو سکتا ہے ۔

 

 

 



متعللقہ خبریں