پاکستان ڈائری - 41

پاکستان ڈایئری میں اس بار ملاقات کریں پاکستانی نژاد امریکی فیشن بلاگر زنیرہ مظہر سے

پاکستان ڈائری - 41

پاکستان ڈائری - 41

پاکستان ڈایئری میں اس بار ملاقات کریں پاکستانی نژاد امریکی فیشن بلاگر زنیرہ مظہر سے وہ اپنا بلاگ بہت کامیابی سے چلا رہی ہیں اور معتدد بڑے برینڈز کی برینڈ ایمبسڈر ہیں۔

زنیرہ پاکستان راولپنڈی میں پیدا ہوییں ان کے والد ورلڈ بینک کے ساتھ منسک ہیں۔انہوں نے ابتدایی تعلیم پاکستان میں حاصل کی۔بعد ازاں انکے والد ورلڈ بینک امریکا ٹرانسفر ہوگیے تو وہ اہلخانہ کے ساتھ امریکا چلی گیں جہاں وہ واشنگٹن ڈی سی میں۱۷ سال سے مقیم ہیں.ان کے دو بھایی اور ایک بہن ہیں۔والدہ پاکستان امریکا دونوں میں ٹیچنگ سے وابستہ رہیں۔

ٹی آر ٹی سے بات کرتے ہویے زنیرہ نے بتایا کہ پاکستان میں گرایمر فاونڈیشن سکول سے ابتدایی تعلیم حاصل کی اسکے بعد امریکہ سے تعلیم مکمل کی۔گریجویشن انہوں نے جارج میسن یونیورسٹی سے کیا انکا میجربزنس ایڈمنسٹریشن ،اکنامکس  اور آئی ٹی تھا۔کالج میں غیرنصابی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا زنیرہ کہتی ہیں سکول کالج میں کلچرل شوز،ماڈلنگ،تقاریر کے ساتھ ساتھ کھیلوں میں بھی حصہ لیا۔یونیورسٹی میں پاکستانی طلبا کے ساتھ ثقافتی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کرحصہ لیا۔وہ کہتی ہیں بچپن اور دور طالب علمی یادگار رہا۔

اپنے کرئیر کے حوالے سے زنیرہ نے کہا ابھی کالج میں تھی کہ بینک میں جاب مل گی۔۱۸ سال کی عمر میں جاب کا آغاز کیا اور جب میری گریجویشن مکمل ہویی تو مجھے بینک آف امریکا کا مینجر بنا دیا گیا۔اس کے بعد وہ کیپٹل ون بینک چلی گی اور ۲۵۰ ملین ڈالرکے فنانشل ادارے میں ریجنل ایگزیٹو کے طور کام کیا وہ کہتی ہیں میرے ماتحت ۱۵۰لوگ کام کرتے تھے۔ میں ۸ سے ۹ سال تک بینکنگ کے شعبے کے ساتھ منسلک رہی ۔میرے والد ورلڈ بینک کے ساتھ منسک ہیں تو میں انہی کے نقش قدم پر چلی۔اس کے بعد میں نے سوچا کچھ کیمونٹی کے لیے کیا جایے تو میں نے امریکی امیگریشن سروس کا ادارہ جواین کرلیا اور میں ریفیوجی اسایلم اور انٹرنیشنل آپریشنز کے لیے کام کرتی ہوں۔میں یہاں ٹیکنکل پراجیکٹ مینجر ہوں میں بیک گروانڈ میں کام کرتی ہوں اکثر لوگ میرے پاس آتے ہیں کہ میں انکے امیگریشن کے مسایل حل کرسکوں لیکن میں انکو کہتی ہوں میں فرنٹ پر کام تو نہیں کرتی لیکن کوشش کرتی ہوں کہ انکا کام ہوسکے۔

زنیرہ کہتی ہیں کہ شروع سے مجھے فیشن اور رایٹنگ کا بہت شوق تھا کام کے ساتھ ساتھ سوچا کیوں نا کچھ باقاعدگی سے بلاگ کی صورت میں لکھا جایے شروع میں شوقیہ شروع کیا اور اب یہ بھی دوسرا پرفیشن بن گیا ہے۔چار سال پہلے بلاگ شروع کیا یہ فیشن اور فیمنزم پر مبنی ہے۔فیشن اپ ڈیٹس کے ساتھ میں خواتین کے مسایل کے حوالے سے بھی لکھتی ہوں جن میں خاص طور پر جنوبی ایشا کی خواتین کی مسائل شامل ہیں۔

زنیرہ سرینا ڈاٹ کام کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ بلاگ کی وجہ سے مجھے نئ شناخت اور شہرت ملی۔اب تو یہ دوسری جاب بن گیا ہے۔شروع میں صرف یہ اس لیے تھا کہ میں دنیا کو بتا سکوں کہ میرا پرسنل سٹایل یہ ہے ۔اب تو بلاگ میں برینڈز کی پوسٹ بھی شامل ہوتی ہیں۔سرینا میری بیٹی کا نام ہے یہ بلاگ ہم دونوں کے نام پر ہے ۔میری کوشش ہوتی ہے بلاگ کے دو حصے ہوں ایک میرا پرسنل سٹایل اور تصاویر ہوتی ہیں دوسرے میں سیل اور ڈیلز کے بارے میں اپ ڈیٹ ہوتی ہے۔میری کوشش ہوتی ہے کہ لوگوں کو بتایا کہ جایے چیزوں کو کیری کیسے کرنا ہے۔دوسرے حصے میں زندگی، خوشی اور کانفیڈس کے بارے میں لکھتی ہوں کہ ہم خوش کس طرح رہ سکتے ہیں۔میں بلاگ میں جوتے اور دیگر اشیا بھی شامل کرتی ہو تاکہ لباس کے ساتھ ساتھ پڑھنے والوں کو دیگر ٹرینڈز بھی پتہ چل جائیں ۔

سوشل میڈیا پر انکے ون ملین سے زاید فالور ہیں۔وہ ریولان، نیوٹروجینا،سٹار باکس اور جیپ جیسے بڑے اداروں کے ساتھ کام کرچکی ہیں۔پاکستان میں مصروف فیشن سٹور لیبلز کی برینڈ ایمبسڈر رہیں اور اپنی کلالیکشن زنیرہ کے نام سے لانچ کی۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے بڑے برینڈ کھاڈی کو بھی امریکا میں ریپرزینٹ کیا۔وہ چار سال سے نیو یارک فیشن ویک کور کررہی ہیں۔زنیرہ کہتی ہیں مجھے اچھا لگتا ہے جب مجھے پاکستانی ہونے کے ناطے فیشن شو کی کوریج میں بلایا جاتا ہے۔میں نے نیویارک فیشن شو میں کھاڈی پہنا اور سب کی مرکز نگاہ رہی وہاں پر ڈیزائنرز اور فوٹوگرافر مجھ سے اس برینڈ اور پاکستان کے بارے میں پوچھتے رہےمیرے لیے یہ لمحہ فخر تھا۔کھاڈی بہت کلاسی برینڈ ہے اور قوت خرید میں بھی ہے۔ریولان کے بارے میں انہوں نے بتایا گزشتہ سال انکے ساتھ کام کرکے تجربہ بہت اچھا رہا ہر ماہ انکی مختلف براڈکٹس کے بارے میں پوسٹ کیا۔ان پراڈکٹس کو استعمال کرنے کے حوالے مختلف ویڈیوز میں سینپ چیٹ پر بھی پوسٹ کی۔

وہ کہتی ہیں پاکستان کے برینڈز کے ان لاین سٹور بن گیے ہیں جو بہت ہی خوش آئند بات ہے باہر کے ممالک میں بھی پاکستانی اسکو آسانی سے خرید سکتے ہیں۔میں خود امریکا میں بیٹھے ہویے پاکستانی کپڑے لیتی ہیں فیشن گلوبل لنگویج ہے۔پاکستان کے بھی ہر شہر میں بڑے برینڈز موجود نہیں ہیں اس لیے پاکستان میں رہنے والوں کے لیے بھی آن لائن سٹورز سے بہت بڑی سہولت ہے۔

زنیرہ مظہر  سی این این ، اے بی سی اور فاکس نیوزپر بطور مبصر بھی آتی ہیں ۔وہ کہتی ہیں خواتین کو گھر اور کرییر کے ساتھ ساتھ دیگر مشاغل پر بھی توجہ دینا چاہیے اگر انکی کویی ہابی ہے تو ضرور پورا کریں۔میری ۸ سال کی بیٹی ہے میں آفس گھر اور اسکی زمہ داری ساتھ لے کر چلتی ہوں ۔جب بیٹی کاموڈ ہو تو اسکی تصاویر اور بلاگ زنیرہ سرینا ڈاٹ کام پر پوسٹ کرتی ہوں۔وہ کہتی ہیں کہ ویک آفس،گھر کی وجہ سے بزی ہوتا ہے۔اسلئے اپنے فوٹو شوٹ اور بلاگ پوسٹ میں ویک ونڈز پر کرتی ہوں۔

۲۰۱۴ میں امریکا میں انہیں مسز پاکستان چنا گیا وہ کہتی ہیں کہ اسکے بعد وہ مسز انٹرنیشل کے فاینل تک پہنچی۔زنیرہ کہتی ہیں اس مقابلے میں ہمارے کام اور سماجی کام کو زیادہ دیکھا گیا فیشن اور اسٹایل اسکے بعد تھا۔مجھے بلکل یقین تھا کہ میں پیجنٹ جیت جاوں گی لیکن میں جیتی۔نیے آنے والوں کے لیے انہوں نے کہا کہ آپ عملی میدان میں آئیں تو سب چیزیں آسان ہوجاتی ہیں ۔شروع میں مشکل ہوتی ہے لیکن ہمت اور محنت سے سب آسان ہوجاتا ہے۔انہوں نے کہا سوشل میڈیا کا استعمال کریں مثبت طور پر کریں اس سے کسی کی تضحیک نا کریں آپ کے منفی ریمارکس کسی کے بھی احساسات مجروح کرسکتے ہیں۔



متعللقہ خبریں