حالات کے آئینے میں 41

کیا ترکی ۔ یورپی یونین تعلقات کو نئے سرے سے قائم کرنا ممکن ہے؟

حالات کے آئینے میں 41

یورپی یونین تعلقات میں  بہتری آنا، یورپی سربراہان  کے اب  عدم مساوات و انصاف  کی بنیادوں پر   کوئی تعلق جاری نہ رکھ سکنے   کو قبول  کرنے کے  ساتھ ہی ممکن بن سکتا ہے۔

ترکی، یورپی یونین میں شراکت کے لیے سن 2005  سے امیدوار ملک کی حیثیت رکھتا ہے۔ ترکی  کے یورپ کے  باقی ماندہ     ملکوں  کے ساتھ تعلقات میں   ایک دور میں   پر ہیجان  اور درخشاں مستقبل کا پیام دینے   کے طور پر  جائزہ لیے جانے والا یہ سلسلہ  12  برس قبل کسی  کے بھی وہم و گمان میں بھی نہ ہونے کی حد تک مایوسی،  عدم  اعتماد اور  نا امیدی سے دو چار ہوا ہے۔

علاقائی و قومی سطح پر  رونما ہو نے والے مسائل اور بحران  نے ترکی  کے   بعض  نمایاں یورپی ملکوں کے ساتھ  تعلقات میں تناؤ پیدا کیا ہے اور اس نے  ہمارے  سلسلہ رکنیت یورپی یونین  میں  جمود لایا ہے۔ بلا شبہہ ترکی۔ یورپی یونین  تعلقات کو    از سر نو تشکیل  دینے  کی ضرورت ہے۔ دو سری جانب سے   یہ محض  دونوں  فریقین کے ایک دوسرے کے  سامنے   انصاف، احترام اور مساوات کے نظریے کو   بالائے طاق رکھنے کے ساتھ ہی ممکن ہے۔

ترکی   پر کی گئی  سخت گیر اور چھیڑا خانی پر مبنی نکتہ چینیاں ، قلیل مدت کے لیے  مقبولیت  میں اضافہ تو کر سکتی ہیں مگر  یہ کسی کے لیے بھی امن و سلامتی اور خوشحالی کی ضمانت نہیں دیتیں۔   یہ   واضح کرتا چلوں کہ  آج ہمیں   در پیش ہونے والے مسائل، ترکی  اور یورپ کی سرحدوں  سے کہیں  دور سے   تعلق رکھتے ہی اور   ہمارے سر پر پڑنے والے یہ عالمی بحران، تباہ کن  قومیت   پرستی،   بلا کنٹرول کے  نسل پرستی اور  بڑھنے والی  نا امیدی  کے ماحول میں مسلمان  اور مغربی معاشروں  کے  باہمی تعلقات کو متاثر کر رہے ہیں۔ مسلم اُمہ اور مغربی طبقے کے  تضادات کو دور  کرنے  اور بنی نو انسانوں کے  مشترکہ مفاد کے لیے کام   کرنے  کے  زیر مقصد یکجا نہ ہونے تک  عالمی سطح پر امن کا قیام  اور  عالمی سطح پر ہی  قائم کیے جانے والے دو طرفہ احترام اور  مل جل کر زندگی بسر کرنے کی مفاہمت  اور ثقافت کو فروغ   دینا ناممکن ہے۔

بعض یورپی ملکوں میں  ترکی  مخالف ہونے والے  دائیں بازو کے  نظریات کے  حامل  لوگوں کی ہمدردی   حاصل کرنا داخلی پالیسیوں کے مرکزی عناصر میں سے ایک کی حیثیت حاصل کر چکا ہے۔  تا ہم  دس برس پیشتر  نظر انداز کیے جا سکنے والے ایک مسئلے کے طور پر جنم لینے  والی یہ صورتحال  یورپی مرکزی سیاست کا   حصہ بن چکا ہے۔ انتہائی دائیں  بازو کے  حلقوں  کو رعایت دینا  ،  قلیل  مدت کے مفاد  سے ہٹ کر انتہائی  سنگین  نتائج پیدا کر سکتا ہے۔  یہاں پر  بتانے کی ضرورت تو نہیں لیکن  یہ سب کے علم میں ہے کہ یورپ میں صدر ایردوان کی مخالفت، نہ صرف یورپی مملکتوں کے ساتھ ہونے والے ہمارے تعلقات میں  کشیدگی کا موجب بنی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یورپی یونین  کی سرحدوں کے اندر   مقیم کروڑوں ترک شہریوں  کو خطرات سے دو چار کر رہی ہے۔

ترکی آج نہ تو   سن 1963 میں  اُس دور کے  نام  یورپی  اقتصادی  سوسائٹی  کی رکنیت درخواست دینے والا  ترکی   ہے اور نہ ہی سن 1999 میں یورپی یونین کا سرکاری طور پر امیدوار  بننے والا   ایک ملک ہے۔ ہماری   آبادی سن 1960 سے ابتک تین  گنا  ہو چکی ہے تو سن 1963 سے   ابتک   اس کی مجموعی قومی پیداوار  میں 80 گنا اضافہ ہو ا ہے۔

دوسری جانب  سے بعض لوگوں کے نظر  انداز کیے  جانے والے  حقائق کے باوجود موجودہ یورپ   2 ہزار کی دہائی کے آغاز  والا یورپ نہیں ہے۔ آج قدیم خطے کو  نیو نازی  انتہا پسندی، پاپولزم  اور مہاجرین ، مسلمان اور  دیگر  غیر ملکیوں کے  خلاف سر زد کردہ نفرت  کے الزام کے ساتھ   منسوب کیا جاتا  ہے۔  یورپ میں سرعت سے   کمی آنے والے سیکورٹی  کا   ماحول ، بعض یورپی مملکتوں  کی جانب سے ترکی  پر یورپی یونین کی رکنیت کے دروازے بند کرنے  کی کوشش کے  ساتھ  ملنے سے  ترک عوام میں   سلسلہ رکنیت یورپی یونین  کی حمایت میں  کمی واقع ہوئی ہے۔

یورپی   عوام پسند ، ہماری ثقافت،  منتخب شدہ ہمارے سربراہان اور ہمارے مفاد کو ہدف بنارہے ہیں تو اس  مدت کے اندر  ترکی  نے   مسلسل طور پر  نئے اور  کہیں زیادہ  پائدار  مؤقف کی اپیل کی  ہے۔ ترکی میں سن 2017 اپریل میں منعقد ہونے والے آئینی ریفرنڈم کے بعد صدر  رجب طیب ایردوان، جرمن  چانسلر انگیلا مرکل  سمیت  یورپی سربراہان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات میں نئے باب کا آغاز کرنے کے لیے  یکجا  ہوئے۔  صدر ترکی نے  ان ملاقاتوں کو حکومت جرمنی  اور بعض دیگر یورپی مملکتوں کی جانب سے  PKK اور فیتو کے ارکان سمیت  آئینی اصلاحات کی مخالفت  کر نے   والوں کی حمایت کرنے اور  اصلاحات پسندوں کی صدا کو اپنی سرحدوں کے اندر مقیم  ترک شہریوں  تک پہنچانے کی راہ میں   رکاوٹیں  کھڑی کرتے ہوئے  ترکی کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کے باوجود  سر انجام دیا۔

ریفرنڈم کے بعد  یورپی یونین کے  حکام کے ساتھ برسلز میں منعقد  مذاکرات میں صدرِ ترکی نے ترکی۔یورپی یونین  تعلقات کو جانبر کرنے کے  معاملے   میں  پُر عزم   ہونے  کی ایک بار پھر تائید کی ہے۔ تاہم  یورپ میں انتہائی دائیں بازو   کے نظریات  میں  سرعت سے  اضافے نے اس معاملے میں کسی پیش رفت کو حاصل  کرنے میں  رکاوٹیں کھڑی کیں۔

گزشتہ ماہ جرمنی میں  منعقد    ہونے والے  انتخابات نے ایک بار پھر  ترکی اور صدر ایردوان کے خلاف  بڑھنے والی نفرت کو  مزید تقویت دی  ہے ، تا ہم   یہ چیز   انتہائی دائیں بازو کی تحریک میں  مزید تیزی آنے  کو نہ   روک سکے گی۔ جرمنی کی سب سے بڑی سیاسی  جماعتوں  کے  رہنماؤں  نے انتخابی مہم کے دوران ترکی مخالف سخت گیر بیانات دیے ہیں تو بھی  انتخابی نتائج  واضح  ترین طریقے سے حقائق کوآشکار کرتے ہیں۔  سن 2013 میں چانسلر مرکل   کی پارٹی   کی حمایت کرنے  والے   ایک ملین سے زائد رائے دہندگان  نے   حالیہ انتخابات میں  اپنی ترجیح کو  نسل پرست  اے ایڈ ی پارٹی کے  حق  میں استعمال کیا ہے۔

خاصکر سابقہ مشرقی جرمنی  میں دائیں و بائیں بازو کی انتہا پسند  تحریکوں  نے  مرکزی  سیاسی جماعتوں کے خلاف   قابل ذکر حد تک کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ مزید برآں ،  ریڈیکل تحریکوں کاجرمن معیشت  کے ایک اچھی سطح پر ہونے کے دور میں   اس حد تک کامیابی حاصل کرنا،  غربت اور انتہا پسندی کے درمیان روایتی طور پر قائم کیے   جانے والے تعلق پر  سوالات اٹھانے کا بھی  موجب بنا ہے۔   رعایت    اور مراعات دینے کی پالیسیاں آج سے ایک صدی قبل بھی  ناکام  رہی تھیں اور آج بھی ان  کے کامیابی سے ہمکنار ہونے     کی سوچ کو بیان کرنے  کے پیچھے کوئی  سبب نہیں   پایا جاتا۔

ہم ،  یورپی یونین کی رکنیت کو سیاسی، اقتصادی اور  سلامتی  سے متعلق اسباب کے ساتھ  ایک حکمتِ عملی  ہدف کی نظر سے دیکھتے ہیں۔  ترکی ،  ہر گزرتے دن مزید  خطرناک ماہیت  اختیار کرنے والی   دنیا میں  یورپ   کی سلامتی و تحفظ کے لیے  ایک اہم کردار  ادا کر رہا ہے۔ تا ہم ، ہم  دہرے معیار ،  خطرات  اور  کھلم کھلا دشمنی  کو قبول کرنے پر راضی نہیں    ہو سکتے۔

ترکی  ۔ یورپی یونین تعلقات  میں محض اس شکل میں  بہتری  اور بحالی لائی جا سکتی ہے جب  یورپی سربراہان ان تعلقات کو اب عدم مساوات و  عدم انصاف  کی بنیادوں پر  جاری نہ رکھ سکنے   کو قبول کریں  گے۔ انہیں ترک  عوام کی جمہوری ترجیحات کا احترام کرنے،  ترکی کے منتخب شدہ  رہنماؤں کا احترام کرنے اور ترکی  سے  مساوی  شراکت دار  کے طور پر    مؤقف اپنانے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

یہ صورتحال ترکی ۔ یورپی یونین مہاجرین معاہدے اور در اصل   طویل مدت قبل ترک  شہریوں کو   شینگن ویزے کی سہولت سے  ہمکنار کرنے   کے حق  کے لیے بھی لاگو ہوتی ہے۔  یورپ  کے  اپنے وعدوں کو پورا نہ کرنے کو چھوٹے پیمانے کے اور ایک تیکنیکی معاملے کے طور پر  نظر انداز کرنے کے وقت  ترکی کو اس کا ذمہ دار ٹہرانا اس ملک کے ساتھ سرا سر نا انصافی ہے۔

اعتماد، دو طرفہ احترام اور تعاون پر مبنی    تعلقات  ترکی اور یورپ دونوں کے مفاد میں   ہوں گے۔ تا ہم ، یہ  یک طرفہ  تعلق  نہیں ہے اور اس کا ثبوت پیش کرنے  کی ذمہ داریوں کے بوجھ  کو صرف ترکی کے کندھے پر نہیں   ڈالا جا سکتا۔  یورپ  کسی نہ کسی وجہ سے ترکی  یا پھر کسی دوسرے ملک کے  سامنے اپنی  پیٹھ کر لیتا ہے تو  اس صورت میں ان ملکوں کا مختلف متبادل کی جانب مائل ہونا ایک فطری  عمل ہو گا۔ علاوہ ازیں کثیرالجہتی ۔ مرکز کی جانب سے  ڈھالے جانے والے  عالمی سیاسی ماحول میں ترکی  کی خارجہ پالیسیوں کے پیش نظر کو مغربی افق سے  ہٹ کر وسعت دینے پر سوالات اٹھانا   ہر گز ایک ذی فہم فعل نہیں ہے۔

اس کی بجائے یورپیوں کو 21 ویں صدی  کے حقائق کو  مد نظر رکھنے سے    دوسروں سے کہیں زیادہ اپنے مفاد کو نقصان پہنچانے   کا اندازہ کرنے اور ہمیشہ مشترکہ جدوجہد کرنے اور ترکی  کے جائز  سیکورٹی خدشات کو  اور مفادات کو  لازمی  توجہ دینا ہو گی۔ ترکی ۔ یورپی یونین تعلقات   کی از سر نو تشکیل کے  لیے  پیدا کیا جانے والا ایک نیا ماحول محض انصاف، مساوات  اور احترام کی طرح کی اقدار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے  ، دہرے معیار اور سیاسی  مفادات    سے باز آنے سے ہی ممکن بن سکتا ہے۔

 



متعللقہ خبریں