ترکی یوریشیاء ایجنڈہ ۔ 30

ترکی یوریشیاء ایجنڈہ ۔ 30

ترکی یوریشیاء ایجنڈہ ۔ 30

پروگرام " ترکی یوریشیاء ایجنڈہ " کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ یوریشیاء کے رسل و رسائل کے اہم ترین  منصوبوں میں سے ایک یعنی 'باکو۔تبلیس۔کھارس' BTK   ریلوے لائن منصوبے نے تجرباتی سفر شروع کر دئیے ہیں۔ ہم بھی اپنے آج کے پروگرام میں 'باکو۔تبلیس۔کھارس' ریلوے لائن منصوبے اور علاقے پر اس کے اثرات کا جائزہ لیں گے۔

اتاترک یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر جمیل دوعاچ اپیک کا موضوع سے متعلق تجزئیہ آپ کے پیش خدمت ہے۔

ترکی کے وزیر رسل و رسائل  احمد آرسلان نے آذربائیجان، جارجیا اور قزاقستان کے حکام کے ساتھ باکو۔تبلیس۔کھارس BTK  ریلوے لائن کے ذریعے کھارس سے جارجیا کا سفر کیا ہے۔ منصوبے کے دائرہ کار میں پہلا مسافر سفر کیا گیا۔ BTKبین الاقوامی لائن پر پہلا باقاعدہ  سفر ماہِ ستمبر میں شروع کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔

روزمرّہ زندگی میں مال، خدمات، سرمائے اور افراد کی دنیا میں زیادہ آزادانہ نقل  و حمل ہو رہی ہے۔ اس وجہ سے مفید اور متبادل بین الاقوامی رسل و رسائل کے نیٹ ورکوں کافروغ، تیزی سے پھیلتی ہوئی عالمی تجارت کی ضروریات  کو پورا کرنے کے لئے ایک ضرورت کی حیثیت رکھتا ہے۔ بین الاقوامی منڈیوں میں بڑھتی ہوئی رقابت، پیدا کی گئی مصنوعات کا جاذب قیمتوں کے ساتھ اور بروقت عالمی منڈیوں میں پہنچنا  ضروری ہے۔ اس حوالے سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ  روزمّرہ  اقتصادیاتوں میں رسل و رسائل کا سیکٹر  پیداواری سیکٹر جتنی اہمیت کا حامل ہے۔

BTK ریلوے لائن کی کُل لمبائی 838.6   کلومیٹر ہے۔ آذربائیجان کے دارالحکومت باکو سے نکلنے والی یہ ریلوے لائن جارجیا کے دارالحکومت تبلیس  تک جاتی ہے۔ ریلوے لائن  تبلیس سے 23 کلو میٹر جنوب  سے مغرب کی طرف علیحدہ ہونے کے بعد آہیل کیلیک تک جاتی ہے اور یہاں سے جنوب کی طرف ترکی کے شہر کھارس تک پہنچتی ہے۔ اس ریلوے لائن کو اگرچہ  آذربائیجان۔ جارجیا۔ترکی کے درمیان رسل و رسائل کے لئے استعمال کیا جائے گا لیکن یہ لائن  خاص طور پر قزاقستان ۔ ترکمانستان اور ترکی  کے درمیان رسل و رسائل کے لئے بھی ایک مضبوط متبادل ہو گی۔ چین اور ترکی  کے درمیان  سفر کرنے والی ٹرینوں  کے بھی اس  راستے کو استعمال کرنے کا قوی احتمال موجود ہے۔

لائن کے باقاعدہ سفروں کا آغاز کرنے کے بعد پہلے سال ایک ملین مسافر اور 6.5  ٹن بوجھ اٹھانے  اور سال 2034 میں  یہ  تعداد اندازاً 3 ملین مسافروں اور 17 ملین ٹن بوجھ تک پہنچ جائے گی۔ اس تعداد سے واضح طور پر ظاہر ہو رہا ہے کہ BTK اس علاقے میں خواہ روزگار کی فراہمی کے موضوع پر ہو خواہ تجارتی حوالے سے بڑے پیمانے پر تیزی لائے گی۔ باکو۔تبلیس۔جیہان اور باکو۔تبلیس۔ارض روم کے منصوبوں کے بعد تینوں ملکوں کی طرف سے توسیع دیا گیا یہ تیسرا بڑا منصوبہ تینوں ملکوں کی تاریخی دوستی کو مزید مضبوط بنائے گا۔ BTK ، مارمرائے اور ان منصوبوں کے ساتھ معاونت کرنے والے دیگر ریلوے لائن منصوبوں کی تعمیر سے ایشیاء سے یورپ اور یورپ سے ایشیاء  تک بڑے پیمانے پر اٹھائے جانے والے بوجھ کا ایک بڑا حصہ ترکی میں رہے گا۔ اس طرح ترکی طویل المدت عرصے  کے لئے کئی بلین ڈالر رسل و رسائل کی آمدنی حاصل کرتا رہے گا۔

BTKکا ایک ہدف علاقے میں ایک نیا انرجی کوریڈور تشکیل دینا ہے۔ آذربائیجان کی پیٹرو۔کیمیا مصنوعات کو اس لائن سے پوری دنیا تک پہنچانے کا ہدف قائم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ترکی اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان موجودہ ٹریفک  بھی بڑے پیمانے  پر اس لائن پر  منتقل ہو جائے گی۔ موجودہ براستہ ایران جانے والی ریلوے لائن  کا ناکافی رہنا، وان جھیل اور ساراکس پر طویل وقفے کے مسئلے کا سامنا ہونے کی وجہ سے زمینی راستے سے جاری رکھی جانے والی رسل و رسائل  کے بھی اس لائن پر منتقل ہونے  کا قوی احتمال موجود ہے۔

BTKریلوے لائن آذربائیجان۔جارجیا۔ترکی کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گی۔ آرمینیا  سے گزرنے والی اور تاحال بند رکھی جانے والی کھارس۔گُمرُو۔تبلیس ریلوے لائن کے بھی غیر اہم ہو جانے کی وجہ سے آرمینیا کے تنہا رہ جانے میں اور بھی اضافہ ہو جائے گا۔ آذربائیجان کو ترکی اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان ٹریفک میں زیادہ اہمیت حاصل ہو جائے گی۔ ٹرانزٹ  بوجھ کے معاملے میں زیادہ قوی اہداف کے مالک ملک  قزاقستان  سے گزرنے والے رُوٹوں میں اضافہ ہو جائے گا ۔ تاہم ہمسایہ ممالک کے ساتھ روابط کو مضبوط بنانے کے خواہش مند ملک ایران کو ترکی۔وسطی ایشیائی ممالک کی ٹریفک میں محرومی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

BTK صرف ایک ریلوے لائن منصوبہ  ہی نہیں  بلکہ تاریخی شاہرائے ریشم  کو دوبارہ فعال کرنے، علاقائی ممالک کے ساتھ اقتصادی، سماجی اور ثقافتی تعلقات کو بھی مضبوط بنانے کا منصوبہ  ہے ۔ اس منصوبے سے یورپ اور ترکی ۔جارجیا۔ آذربائیجان   کے راستے سے وسطی ایشیائی  اور مشرق بعید  کے ممالک کے درمیان ریلوے لائن کے ذریعے پائیدار اور مستقل رسل و رسائل کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

اس منصوبے کا اہم ترین فائدہ آذربائیجان کو حاصل ہو گا۔ پیٹرول کی مصنوعات کا  برآمد کنندہ آذربائیجان ریلوے لائن کے ذریعے ترکی کے ساتھ منسلک ہو جائے گا۔ علاوہ ازیں آذربائیجان ترکی کی بندرگاہوں اور ریلوے لائن کے و سیلے سے یورپ اور دیگر علاقوں کے ساتھ منسلک ہو جائے گا۔

خواہ  جیو ۔اسٹریٹجک حیثیت   سے ہو خواہ یوریشیائی ممالک کے ساتھ ہونے والے گہرے مشترکہ تاریخی  اور ثقافتی روابط سے تقویت حاصل کر کے ہو ترکی علاقائی ممالک کے ساتھ تعاون  کی صلاحیت کو بڑھانے کے لئے کام کر رہا ہے۔ شراکت داری کے منصوبوں میں اضافہ،  یوریشیائی علاقے کے صرف علاقائی تعاون کے حوالے سے ہی نہیں بلکہ علاقے کے بین الاقوامی معاشرے کے ساتھ اتصال کے حوالے سے بھی اہمیت کی حامل ہے۔ علاقے کی اقتصادی ترقی کے ساتھ تعاون کرنے والے اس نوعیت کے منصوبے علاقے کے عوام کے درمیان روابط کو مضبوط بنائیں گے، علاقے  کی خوشحالی اور استحکام  کے لئے مضبوط بنیادیں تشکیل دینا جاری رکھیں گے۔



متعللقہ خبریں