عالمی معیشت23

صدارتی نظام اور ترک اقتصادیات

عالمی معیشت23

سولہ اپریل کے ریفرنڈم کے  بعد ترکی میں   صدارتی نظام  کے حق میں  عوا می فیصلے کے بعد   ترکی   کے انتظامی ڈھانچے  میں تبدیلی کا آغاز   ہو  چکا ہے  جس  کے نتیجے میں  ترکی کا سیاسی و معاشی نظام   مزید مستحکم  ہوگا۔

 ترک معیشت میں  مزید فروغ  کےلیے  ایک مربوط  حکمت عملی   کی ضرورت ہے   جس کےلیے   متعلقہ اداروں  کو  آپس میں تعاون   کو یقینی بنانا ہوگا۔اس سارے عمل کےلیے  وزارتوں   اور  اقتصادی  اداروں  کے درمیان  رابطے   کو ممکن بنا نے کی  ضرورت ہے ۔ مثال کے طور پر    ماضی میں ترکی  کے قومی اداروں کے درمیان   ایک طویل عرصے تک  افسر شاہی  کا رواج رہا۔

امید ہے کہ اب صدارتی نظام کی بدولت   اس سلسلے میں  نئے اقدامات اختیار کیے جائیں گے اور ملک کو  ترقی کی نئی راہ پر ڈالنا ہوگا۔

 ادارتی  و انتظامی تبدیلی   جتنی جلد ممکن ہوگی اتنا ہی ملک اقتصادی لحاظ سے ترقی کر سکے گا۔ ترکی  کی حکومت نے  سن 2023 اور سن 2053  کے  اہداف  جو مقرر رکھے ہیں اُن کی تکمیل کےلیے  صدارتی نظام کافی معاون  ثابت ہوگا۔

ترقی پذیر ممالک  کی جب بات کی جائے   تو ان میں   ترکی  بھی شامل ہے جس   کی معاشی  صلاحیتوں کو  مزید چار چاند لگانے کےلیے   سود مند پالیسیاں اختیار کرنا ہونگی  ، اس وقت ترکی  کی  فی کس  قومی آمدنی   کا تناسب  دیگر ممالک سے کافی بہتر ہے  جس میں مزید اضافہ کرنا مقصود ہوگا۔

ان میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ   ملک کو ایک درمیانی آمدنی کے حامل ملک سے بڑھا کر  بلند آمدنی کے حامل ممالک کی صف میں شامل کرنا ہے  دوسری  جانب  عالمی معیشت میں توازن   کے تناظر میں   ترکی جیسا ترقی پذیر ملک      اپنی  معاشی  ترقی میں کامیابی سے  مزید فعال ہوگا  ۔

  ترکی  کو اپنی  اقتصادی  کارکردگی  مزید  بہتر بنانے   کےلیے وقت  کی نبض تھامنا ہوگی  جس کے لیے فوری طور پر  عملی اقدامات کی ضرورت ہے ۔ سن 2019 تک  ملکی اداروں کو  اصلاحات کے ذریعے مزید بہتر بنانا ہوگا   جس کا فائدہ در حقیقت  معاشی و صنعتی اداروں کو زیادہ پہنچے گا۔

مفید  پالیسیوں  کے تحت   صنعتی و معاشی ادارے   کے درمیان  بے یقینی کی   کیفیت  ختم کرنے  میں  مدد ملے گی  جس کےلیے اقتصادی ماحول   کو  سازگار بنانے  اور سرمایہ کاری  میں اضافہ  کرنے کی ضرورت ہے ۔ترکی اگر معیشت میں بلند شرح ترقی کا خواہاں ہے تو اسے  عالمی بازاروں میں قدم جمانےکے  لیے  سخت مقابلہ کرنا ہوگا جس کےلیے  غیر ملکی سرمایہ کاری ضروری ہے ۔  مختصراً یہ کہ   صدارتی نظام   ترک معیشت  میں اضافےکےلیے ایک سنگ میل ثابت ہونے سمیت  مسائل کے بر وقت  حل کےلیے  موثر اور دیرپا   فیصلے کرنے کا اہل ہوگا۔

 مستقبل  میں  ملکی معیشت       سےمنسلک  تمام صنعتی و معاشی اداروں کی از سر نو  تشکیل   کے لیے   پائیدار    اور سود مند  اقدامات اٹھانے کی  صورت میں یہ  ذرا مشکل نہیں  کہ   جمہوریہ ترکی،     ترقی اور صنعت و حرفت    کی ایک نئی  اور بہترین راہ پر گامزن ہو سکے گا۔

 

 


ٹیگز: معیشت , ترکی

متعللقہ خبریں