دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کی نظریں ترک صدر پر

جناب ایردوان کے بیک وقت انگریزی اور عربی زبانوں میں بھی   پیش  کیے جانے والے  خطاب کو دنیا کے ممتاز پریس   اداروں اور بین الاقوامی خبر ایجنسیوں نے براہ راست نشر کیا

دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کی نظریں ترک صدر پر

عالمی  پریس کی نظریں صدر رجب طیب ایردوان کے اعلانات پر مرکوز  رہیں۔

ترک صدر نے پارلیمنٹ میں خطاب میں جمال خاشقجی کے قتل کے بارے میں  سنسنی خیز  انکشافات  کیے۔

جناب ایردوان کے بیک وقت انگریزی اور عربی زبانوں میں بھی   پیش  کیے جانے والے  خطاب کو دنیا کے ممتاز پریس   اداروں اور بین الاقوامی خبر ایجنسیوں نے براہ راست نشر کیا۔

الجزیرہ نے  اس حوالے سے اپنی خبر کے لیے یہ سرخی لگائی"صدر ایردوان جمال خاشقجی کے حوالے سے اپنی خاموشی توڑ رہے ہیں اور  توقع ہے کہ وہ  تمام تر حقائق کا انکشاف کریں گے۔"

عرب میڈیا نے صدر  ایردوان کی سعودی عرب سے اپیل کہ"مجرمین کو ہمارے حوالے کریں"  کو  شہہ سرخی بناتے ہوئے اپنے اپنے رائے عامہ کے سامنے پیش کیا ہے۔

امریکی اے بی سی نیوز اور سی این این نے بھی  صدرِ ترکی کے خطاب کو براہ راست نشر کیا۔

برطانوی پریس میں صدر کے اس بیان کو نمایاں طور پر پیش کیا گیا کہ جس میں انہوں نے کہا  تھا"سعودی عرب میں زیر حراست 18 مشکوک افراد میں 15 رکنی وفد بھی  شامل ہے جو واردات کے روز استنبول آیا تھا، لہذا ان کے خلاف عدالتی ٹرائل کو استنبول کی عدالتوں میں لیا جانا چاہیے۔"

بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں رائٹرز اور اسوسیئٹیڈ پریس نے  سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے ذریعے  صدر ِ ترکی کے  بیانات کو  فوری  طور پر  شیئر کیا۔

 

 



متعللقہ خبریں